ہینگ سیان کاؤنٹی، چنبیلی کی سرزمین، نے 18 ارب یوآن مالیت کا چنبیلی برانڈ تخلیق کرلیا

ناننگ، چین، 22 دسمبر 2016ء/سن ہوا-ایشیانیٹ/– 2016ء چین برانڈ قدر جانچ معلوماتی کانفرنس 12 دسمبر کو چائنا برانڈ بلڈنگ پروموشن ایسوسی ایشن، چائنا سینٹرل ٹیلی وژن، چائنا کونسل فار دی پروموشن آف انٹرنیشنل ٹریڈ اور چائنا اپریزل سوسائٹی کی جانب سے منعقد کی گئی۔ کانفرنس کے مطابق جنوبی چین کے گوانگ سی چوانگ خود مختار علاقے کے شہر ناننگ کی ہینگ سیان کاؤنٹی کی یاسمین چائے اور چنبیلی کے پھول کی صنعت 18 ارب یوآن کی مالیت رکھتی ہے۔

ہینگ سیان کاؤنٹی “چنبیلی کی سرزمین” کی اچھی ساکھ کا لطف اٹھاتی ہے اور چنبیلی کے پھول اور یاسمین چائے کے عالمی پیداواری مرکز کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا تھا۔ ہینگ سیان کاؤنٹی میں چنبیلی کی کاشت کی تاریخ 400 سال تک پرانی ہے۔ گزشتہ سالوں میں ہینگ سیان کاؤنٹی حکومت نے صنعتی ڈھانچے کو مکمل کرنے کی کوشش کی۔ اس وقت 330,000 کاشت کار ہیں جو کاؤنٹی میں 10,000 چنبیلی کاشت کرتے ہیں۔ چنبیلی کے پھولوں کی سالانہ پیداوار تقریباً 80 ہزار ٹن ہے۔ کاؤنٹی میں 130 یاسمین چائے کےکارخانے ہیں اور 60,000 ٹن یاسمین چائے چین کے اندر اور باہر فروخت ہوتی ہے۔ ہینگ سیان کاؤنٹی دنیا میں چنبیلی کے پھول اور یاسمین چائے کا سب سے بڑا پیداواری مقام بن چکا ہے۔

ایک زیادہ بڑے برانڈ کی تعمیر اور پیداواری فروخت کو پھیلانے کے لیے ہینگ سیان کاؤنٹی حکومت نے ای-کامرس کے متنوع نظام کے قیام کی کوشش کی اور یوں انٹرنیٹ کے ذریعے اپنی مصنوعات فروخت کرنے میں مقامی اداروں کو مدد دے رہی ہے۔ 2015ء میں ہینگ سیان کاؤنٹی گوانگ سی میں واحد کاؤنٹی بنی جو ای-کامرس کے بڑے ادارے علی بابا کے ساتھ تعاون کرتی ہے، جس نے دیہی علاقوں میں 500 ای-کامرس سروس اسٹیشن بنائے۔ اس وقت تقریباً 100 ہینگ سیان کاؤنٹی میں قائم یاسمین چائے ادارے ہیں جو علی بابا کے ٹی مال میں آن لائن اسٹورز میں کھلے۔

دریں اثناء، ہینگ سیان کاؤنٹی حکومت نے اعلیٰ معیار کی زرعی مصنوعات کی کاشت کے لیے اپنی سیلینیم سے مالامال مٹی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ کاؤنٹی اب مختلف شہرتوں کا لطف اٹھاتی ہے جیسا کہ “قومی عملی علاقہ برائے جدید زراعت”، “چین کی سرزمین برائے ایگریکس بسپورس”، “چین کی زمین برائے میٹھی مکئی” اور “چین کی زمین برائے روایتی چینی چاول کی کھیر”۔

ذریعہ: ناننگ میونسپل بیورو آف نیوز

تصویری منسلکات کے روابط:
http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=281529
http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=281530