ذرائع ابلاغ کے خلاف جرائم کی چھوٹ کے خاتمے کا بین الاقوامی دن پاکستان میں صحافیوں کے قاتل آزاد

By Web DeskGeneral

پاکستان پریس فاؤنڈیشن (پی پی ایف) کی طرف سے آج جاری کردہ ایک رپورٹ نے اس خطرناک صورت حال کو بیان کیا ہے کہ پاکستان میں صحافیوں پر حملے کرنے، انہیں زخمی اور یہاں تک کہ قتل کر دینے والے بھی شاذونادر ہی انصاف کے کٹہرے میں آتے ہیں اور آزاد دندناتے پھرتے ہیں۔

“Justice delayed AND justice denied” کے عنوان سے یہ رپورٹ 2 نومبر کو ذرائع ابلاغ کے خلاف جرائم kl کھلی چھوٹ کے خاتمے کے عالمی دن پر جاری ہوئی ہے، جس نے 2002ء سے اب تک ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد کو ہدف بنانے اور قتل کرنے کے 47 معاملات کو دستاویزی صورت دی اور اس دوران اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے مزید 25 افراد کی ہلاکت کا بھی ذکر کیا ہے۔ مزید برآں، اس عرصے میں ذرائع ابلاغ سے وابستہ 185 اراکین زخمی، 88 زدوکوب، 22 اغوا اور 42 حراست میں لیے گئے۔

2016ء میں صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے سول ہسپتال میں وکلا کے مظاہرے کی کوریج کے دوران خودکش حملے میں دو کیمرا مین ہلاک ہوئے۔ مزید برآں، میڈیا سے وابستہ سولہ افراد اپنے ابلاغی اداروں کے لیے کوریج دیتے ہوئے زخمی ہوئے اور ایک میڈیا ایگزیکٹو کو پشاور میں اغوا بھی کیا گیا۔ رپورٹ نے ان خدشات کا بھی ظاہر کیا جو انسپکٹر جنرل سندھ پولیس کی جانب سے مقدمہ دوبارہ کھولے جانے کے اعلان کے باوجود صحافی شان ڈاہر کے قتل کے معاملے میں دوبارہ تحقیقات نہ ہونے سے پیدا ہوئے ہیں۔

پاکستان میں صحافی قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلی جینس اداروں، عسکریت پسندوں، قبائلی رہنماؤں، جاگیرداروں، یہاں تک کہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی دعوے دار سیاسی و مذہبی رہنماؤں کی جانب سے قتل، اغوا، گرفتار، حراساں اور دھمکائے جاتے ہیں۔ ابلاغی اداروں اور ان سے وابستہ افراد صرف ہدف کا نشانہ ہی نہیں بنائے جاتے بلکہ انہیں ریاستی و غیر ریاستی عناصر کی جانب سے دھمکایا، دباؤ میں لایا، خوفزدہ اور ہراساں بھی کیا جاتا ہے۔

2002ء سے اب تک ابلاغی اداروں سے وابستہ افراد کے قتل کے 72 مقدمات میں سے صرف پانچ میں کسی کو مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ میڈیا مالکان کی صحافیوں کے خلاف تشدد کے مقدمات کی پیروی میں عدم دلچسپی ملک میں ذرائع ابلاغ کے خلاف جرائم کی کھلی چھوٹ کی ناقابل قبول سطح تک پہنچنے کی بنیادی وجہ ہے۔ مقدمات سالوں تک عدالتوں میں چلتے رہتے ہیں یہاں تک کہ انہیں عدم پیروی پر خارج کردیا جاتا ہے۔

پاکستان میں وفاقی و صوبائی حکومتوں نے ابلاغی ماہرین اور اداروں کی حفاظت کی ترویج کے لیے زبانی کلامی باتوں سے بڑھ کر کچھ نہیں کیا۔ جس میڈیا سیفٹی بل کو وفاقی سطح پر بہت مشہور کیا گیا وہ نہ صرف بری طرح ناقص ہے بلکہ عملی و بیوروکریسی کی رکاوٹوں کی وجہ سے پھنسا ہوا بھی لگتا ہے۔

پاکستان میں ذرائع ابلاغ سے وابستہ زیادہ تر افراد درمیانے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ اتنی مالی و سماجی طاقت نہیں رکھتے کہ اپنے پیاروں کو مارنے یا زخمی کرنے والے طاقتور افراد کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ اس مسئلے کو مزید ہوا اس حقیقت سے ملتی ہے کہ پاکستان میں قتل سمیت تمام جرائم کا معاملہ قاتلوں اور اہل خانہ کے درمیان کسی مفاہمت  تک پہنچنے اور قصاص کے بدلے میں ختم ہو سکتے ہیں۔ پی پی ایف نے اب تک چار ایسے مقدمات کو دستاویزی شکل دی ہے جن میں عدالت نے ملزمان اور نشانہ بنائے جانے والے افراد کے اہل خانہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کی وہج سے مقدمہ خارج کردیا۔

دھمکیوں اور تشدد نے کئی صحافیوں کو ان علاقوں کو اور صحافت ہی چھوڑ دینے یا پھر خود پر سینسرشپ لاگو کرنے پر مجبور کیا، خاص طور پر ہنگامہ زدہ علاقوں میں۔ یوں شائع یا نشر ہونے والی نئی خبروں میں صدارت کی کمی ہے اور عوام کو بامقصد انداز میں آگاہ نہیں رکھ پاتیں۔

رپورٹ تجویز کرتی ہے کہ فوجداری مقدمات نہ صرف درج کیے جائیں بلکہ ذرائع ابلاغ کے خلاف تشدد کرنے والوں کے خلاف ان کی اچھی طرح تحقیقات اور پیروی ہو۔ یہ بھی تجویز کیا جاتا ہے کہ میڈیا کے خلاف جرائم پر وفاقی اور صوبائی سطح پر مقدمات کی پیروی کے لیے خصوصی وکلا کا تقرر کیا جائے۔ یہ ابلاغی اداروں سے بھی مطالبہ کرتی ہے کہ وہ صحافیوں کے خلاف جرائم کے مقدمات کی قانونی پیروی کو یقینی بنا کر صحافیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے قدم آگے بڑھائے۔

رپورٹ Justice delayed AND justice denied. پر http://www.pakistanpressfoundation.org/wp-content/uploads/2016/11/Report-on-Impunity-November-1-2016.pdf دستیاب ہے۔

مزید تفصیلات کے لیے رابطہ کیجیے:

پاکستان پریس فاؤنڈیشن (پی پی ایف)
پریس سینٹر
شاہراہ کمال اتاترک
کراچی
پاکستان

ٹیلی فون: 8729-3262 21 92+
فیکس:3221-7069 21 92+

ویب: www.pakistanpressfoundation.org
ای میل: ppf@pakistanpressfoundation.org