‫ورلڈ آئی او ٹی ایکسپو 30 اکتوبر سے ووکسی میں شروع

By Web DeskGeneral, Urdu

ووکسی، چین، 30 اکتوبر 2016ء/سن ہوا-ایشیانیٹ/– ورلڈ انٹرنیٹ آف تھنگز ایکسپوزیشن 2016ء 30 اکتوبر کو ووکسی میں شروع ہوگئی۔ یہ “بلیک ٹیکنالوجی” کی کئی مصنوعات پیش کرتی ہے، جیسا کہ ایسے پارکنگ مقامات جو خودکار طور پر گاڑی کو بلا سکتے ہیں، مین ہول کا ڈھکن جو چوری ہونے کی صورت میں خودکار الارم بجا سکتا ہے اور سوتا ہوا کمبل جو امراض کی تشخیص کر سکتا ہے۔

عالمی آئی او ٹی نمائش کی میزبانی مشترکہ طور پر چینی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی، چینی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور جیانگ سو کی صوبائی عوامی حکومت نے کی ہے۔ اس نے 489 نمائش کنندگان کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی، جس میں ملکی اور بیرون ملک سے آنے والے کئی معروف ادارے بھی شامل ہیں، جیسا کہ مائیکروسافٹ، آئی بی ایم، سیمنز، علی بابا، ہواوی اور چائنا موبائل۔

چائنا موبائل کے بوتھ پر رپورٹر نے 3 بغیر ڈرائیور کی گاڑیوں کے ماڈلز دیکھے کہ جو “8 کی شکل” میں خود چکر لگا رہی تھیں۔ “یہ پروڈکٹ انٹیلی جینٹ نقل و حمل اور بغیر انسان کے ڈرائیونگ کے شعبے میں ایک 5جی ٹیکنالوجی ایپلی کیشن ہے۔ صرف 3 ملی سیکنڈ کی تاخیر کے ساتھ یہ تیز رفتار گاڑیوں کو ہمیشہ محفوظ ڈرائیونگ فیصلہ پر رکھنا یقینی بناتی ہے،” وو گینگ پروجیکٹ مینیجر جیانگسو موبائل نے کہا۔

نیٹ ورکنگ ایپلی کیشنز اور مصنوعات کی نمائش کے علاوہ عالمی آئی او ٹی نمائش آئی او ٹی ووکسی اجلاس بھی منعقد کرے گی۔ مہمان انٹرنیٹ آف تھنگز اور انٹیلی جینٹ مینوفیکچرنگ، ماحولیاتی تحفظ، انٹیلی جینٹ نقل و حمل، طب، مالیات، انفارمیشن سکیورٹی، بگ ڈیٹا اور ملک اور بیرون ملک میں صنعت کے دیگر مسائل کے بارے میں اہم موضوعات پر بات وسیع مذاکرے اور اہم نکات پر تبادلہ خیال کریں گے۔

قومی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی ڈپارٹمنٹ انسپیکٹر لو سی کے تعارف کے مطابق، اس وقت چینی آئی او ٹی صنعت 750 ارب یوآن تک پہنچ چکی ہے، انٹیلی جینٹ نقل و حمل، کار نیٹ ورکنگ، صحت وار ديگر شعبوں میں مستحکم انٹرنیٹ آف تھنگز پلیٹ فارم اور کاروباری نمونے بنا چکی ہے۔

“آئی او ٹی دور تخلیق کریں، عالمی انٹیلی جینس پیش کریں” کے موضوع کے ساتھ یہ شعبے کا سب سے بالا و بڑا قومی میلہ ہے۔ اسے چینی اکیڈمی آف سائنسز، انٹرنیشنل ٹیلی کمیونی کیشنز یونین (آئی ٹی یو)، انسٹیٹیوٹ آف الیکٹریکل اینڈ الیکٹرونکس انجینیئرز (آئی ای ای ای)، گلوبل لینگویج آف بزنس (جی ایس1)، آٹو آئی ڈی لیبس کا سہارا حاصل ہے۔

ذریعہ: ورلڈ انٹرنیٹ آف تھنگز ایکسپوزیشن