اسٹمسن سینٹر اور بھارت و پاکستان کے بلاگرز نے بین السرحدی مذاکرات کی حوصلہ افزائی کے لیے ویب سائٹ جاری کردی

واشنگٹن، 4 ستمبر 2013ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیا نیٹ پاکستان–

بھارت اور پاکستان کے بلاگرز کے ساتھ کام کرتے ہوئے اسٹمسن سینٹر نے آج ساؤتھ ایشین وائسز: جنریشن وہائے کہلانے والی ویب سائٹ جاری کی ہے تاکہ  سلامتی کے معاملات پر بین السرحدی مذاکرات کی ترغیب دی جا سکے اور دونوں ممالک کے درمیان  مثالی اور تعاون کے حامل تعلقات کو فروغ دیا جا سکے، اس امر کا اعلان اسٹمسن کے صدر اور سی ای او ایلین لیپسن نے کیا۔

Stimson Center Logo اسٹمسن سینٹر  اور بھارت و پاکستان کے بلاگرز نے بین السرحدی مذاکرات کی حوصلہ افزائی کے لیے ویب سائٹ  جاری کردی

Stimson Center Logo.

(لوگو: http://photos.prnewswire.com/prnh/20130228/DC68405LOGO)

نئی ویب سائٹ کا ایڈریس ہے www.southasianvoices.org

لیپسن نے کہا کہ “یہ نئی ویب سائٹ بھارت اور پاکستان میں نوجوان تجزیہ کاروں کی خدمت کےلیے تیار کی گئی ہے تاکہ انہیں مشترکہ میدان دیا جا سکے اور سلامتی کے معاملات پر وہ ایک دوسرے سے براہ راست رابطہ کر سکیں جو ان کی قوموں کو تقسیم کر رہا ہے۔ یہ سائٹ جوہری ہتھیاروں، روایتی افواج، آبی تنازعات، ہجرت، تجارتی و دیگر متنازع مسائل پر ہونے والے اختلافات کے عملی حل پیش کرنے میں تجزیہ کاروں کی حوصلہ افزائی کرے گی۔”

نئی ویب سائٹ کے لیے لکھنے والے دو بھارتی اور دو پاکستانی سیکورٹی بلاگرز کو ہر سال واشنگٹن میں اسٹمسن سینٹر میں مہمان مجلس کلیہ منتخب کیا جائے گا۔ مہمان مجلس کلیہ تحقیقی منصوبوں پر کام کرے گا اور ایگزیکٹو برانچ عہدیداروں سے ملاقات کرے گا، کیپٹل ہل کا دورہ کرے گا اور تھنک ٹینکس کے ساتھ تعاون کرے گا، اسٹمسن کے شریک بانی مائیکل کریپن نے کہا، جو سینٹر کے ساؤتھ ایشیا پروجیکٹ کے ڈائریکٹر ہیں۔

فیلوشپس اور نئی ویب سائٹ کو کارنیگی کارپوریشن آف نیو یارک، جان ڈی اینڈ کیتھرائن ٹی میک آرتھر فاؤنڈیشن اور امریکی محکمہ توانائی کی نیشنل نیوکلیئر سیکورٹی ایڈمنسٹریشن کی فنڈنگ حاصل ہے۔

کریپن نے کہا کہ “ہم اس ویب سائٹ کو جنریشن وہائے کہہ رہے ہیں کیونکہ بھارت و پاکستان کے باصلاحیت نوجوان تجزیہ کار سوال کر رہے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں میں اتنا کھنچاؤ کیوں ہے۔ وہ خطے کے مستقبل میں اپنی آواز شامل کرنے کا حق رکھتے ہیں اور اسٹمسن کا مقصد انہیں اپنی آواز پہنچانے میں مدد دینا ہے۔”

معروف بھارتی و پاکستانی دانشوروں نے ساؤتھ ایشین وائسز: جنریشن وہائے کے اجراء کا خیرمقدم کیا ہے۔

ڈی سبا چندر، ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف پیس اینڈ کانفلکٹ اسٹڈیز، نئی دہلی نے کہا کہ “اسٹمسن سینٹر بھارت اور پاکستان کے درمیان جدت لیکن مضبوط اقدامات کی بنیاد پر اعتماد کو بڑھانے میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان آن لائن پل بنانے کا اس کا نیا خیال جدید اور عملی ہے، دونوں ممالک کے درمیان ویزا رکاوٹوں کو توڑنے کے لیے سست سرکاری پیشرفت کے مقابلے میں۔ یہ ضروری ہے کہ دونوں برادریوں کو ایک دوسرے کے خدشات اور تاویلات کو سمجھنے کے لیے بہترین مذاکروں کا موقع ملے۔ یہ مشترکہ مستقبل کے تصور کے لیے ایک اچھا پہلا قدم ہونا چاہیے۔ “

سید رفعت حسین –نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی، اسلام آباد کے ڈپارٹمنٹ آف پیس اینڈ کانفلکٹ میں پروفیسر سیکورٹیز اسٹڈیز اور قائد اعظم یونیوسٹی کے سابق پروفیسر اور چیئرمین ڈپارٹمنٹ آف ڈیفنس اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز، نے کہا کہ “میں اسٹمسن سینٹر کو اپنی ویب سائٹ ساؤتھ ایشین وائسز کے اجراء پر مبارکباد پیش کرتا ہے، جو پاکستان اور بھارت کے جوان ذہنوں کو خطے میں امن کے فروغ کے لیے اپنے خیالات پیش کرنے کا انوکھا موقع فراہم کرتی ہے۔ یہ فورم جنوبی ایشیا کو درپیش امن و امان کے پیچیدہ مسائل سے نمٹنے کے لیے جدید اور غیر روایتی خیالات پیش کرنے کے لیے بہترین مقام بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔”

اسٹمسن ساؤتھ ایشین وائسز کے لیے سرور اور ویب سائٹ کو ہوسٹ کرے گا اور امن و امان کے مسائل پر بھارتیوں اور پاکستانیوں کی جانب سے بلاگ تحاریر اور تبصروں کی بڑی تعداد چاہتا ہے۔

اسٹمسن  ریسرچ ایسوسی ایٹ جولیا تھامسن، جو اس سائٹ کو سنبھالیں گی، کہتی ہیں کہ “ویب سائٹ پر تحاریر تحقیقی منصوبوں اور مقالوں، مقامی مسائل اور ہر اس موضوع پر ہوں گی جو برصغیر میں سیکورٹی سے تعلق رکھتاہو۔ سنجیدہ اور مثبت بلاگ تحاریر کے علاوہ ہم غیر رسمی اور ہلکے پھلکے تحاریر تبصروں کو بھی دعوت دیتے ہیں۔”

ویب سائٹ پر تمام بلاگ تحاریر انگریزی میں ہوں گی۔ بلاگ تحاریر اور تبصرے یہاں بھیجیں جا سکتے ہیں southasianvoices@stimson.org

اسٹمسن سینٹر ایک غیر منافع بخش اور غیرجانبدار تھنک ٹینک ہے جو تحقیق کرتا ہے اور دنیا بھر میں امن و سلامتی کے اہم ترین مسائل پر عملی پالیسی خیالات پیش کرتا ہے۔ اسٹمسن کو حال ہی میں تخلیقی و موثر اداروں کے لیے میک آرتھر ایوارڈ سےنوازا گیا۔

Leave a Reply