عالمی توانائی افلاس کے “دنیا کے نمبر ایک انسانی و ماحولیاتی بحران” کے خاتمے کے لیے شعور اجاگر کرنے اور اسے سہارا دینے کی خاطر جدید توانائی برائے زندگی مہم کا آغاز

سینٹ لوئس، 26 فروری 2014ء/پی آرنیوزوائر/ — عالمی توانائی افلاس کو دنیا کا نمبر ایک انسانی و ماحولیاتی بحران قرار دیتے ہوئے پیب اڈیانرجی (این وائی ایس ای: BTU) نے آج ایک جامع عالمی مہم کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد توانائی افلاس کے خاتمے کے لیے شعور اجاگر کرنا اور اسے سہارا فراہم کرنا، سستی بجلی تک رسائی بڑھانا اور جدید صاف کوئلہ ٹیکنالوجیوں کے ذریعے اخراج کو بہتر بنانا ہے۔

“جدید توانائی برائے زندگی” مہم عالمی رہنماؤں، کثیر القومی انجمنوں، اداروں اور اسٹیک ہولڈرز کی وسیع اقسام اور عوام میں شعور اجاگر کرے گی اور انہیں متحرک کرے گی:

Peabody%20Energy. عالمی توانائی افلاس کے دنیا کے نمبر ایک انسانی و ماحولیاتی بحران کے خاتمے کے لیے شعور اجاگر کرنے اور اسے سہارا دینے کی خاطر جدید توانائی برائے زندگی مہم کا آغاز

Peabody Energy.

1۔ دنیا کی نصف آبادی کو متاثر کرنے والے عالمی توانائی افلاس کے بحران کا خاتمہ، جو انسانی صحت، معیار زندگی اور ماحول پر نقصانات اور زبردست اثرات کا سبب بنتا ہے؛

2۔ ایسی پالیسیاں بنانے پر مجبور کرنا اور اقدامات کو مدد دینا جو قابل بھروسہ، سستی توانائی – بالخصوص آج کی جدید کوئلہ ٹیکنالوجی– تک رسائی کو بڑھائیں ، یوں زندگیوں میں اضافہ کریں، معیشتوں کو مستحکم کریں اور قدرتی و  اندرونی ماحول کو بہتر بنائیں؛ اور

3۔ پاور پلانٹ کے کلیدی اخراج کو کم کرنے کے لیے آج کی جدید ترین ٹیکنالوجیاںمتعارف کروانا۔ طویل المیعاد اور اگلی نسل کی ٹیکنالوجیوں کی بڑے پیمانے پر تیاری کو مدنظر رکھنا اور کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کو پکڑنے، استعمال کرنے اور محفوظ کرنے کے لیے تنظیمی ڈھانچے کی تیاری۔

“ایک دہائی سے بھی پہلے اقوام متحدہ کے ہزاریہ اہداف نے 2015ء تک انتہائی عالمی غربت کو فوری طور پر نصف کرنے کا مطالبہ کیا  تھا — اور نصف صدی قبل امریکی صدر جانسن نے غربت کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تھا،” پیب اڈیانرجی کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسرگریگریایچبوائس نے کہا۔ “آج بھی دنیا بھر میں 3.5 ارب افراد توانائی تک موزوں رسائی نہیں رکھتے، اور 4 ملین سے زیادہ افراد توانائی افلاس کے اثرات کی وجہ سے بلاضرورت مر جاتے ہیں۔ ہمارے پاس اس بحران کو ختم کرنے کے لیے ٹیکنالوجیاں اور عالمی وسائل ہیں۔ ہم سب کو حقیقی حل کی جانب مل جل کر آگے بڑھنا چاہیے۔”

جدید توانائی کی ضرورت بہت زیادہ ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی اور عالمی بینک کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا کے 7 ارب میں سے نصف افراد توانائی تک مناسب رسائی نہیں رکھتے، جن میں 1.2 ارب بچے شامل ہیں۔ گھر کے اندر آگ جلانے سے پیدا ہونے والی گھریلو فضائی آلودگی دنیا بھر میں ہونے والی اموات کا اندازاً چوتھا سب سے بڑا سبب ہے اور حیران کن طور پر زندگی کے 100 ملین سال بے محل ضیاع کا سبب بنتی ہے جسے معذوری مرتب زندگی سال (DALY) سے ناپا گیا ہے، جو ایک ایسی پیمائش ہے جسے عالمی ادارۂ صحت نے مرتب کیا ہے۔ ہر DALY بیماری کے ہاتھوں ایک سال کی صحت بخش زندگی کی نمائندگی کرتا ہے۔

بوائس نے کہا کہ “یہ محتاط اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ توانائی افلاس آج دنیا کو درپیش حقیقی انسانی و ماحولیاتی بحران ہے۔ ہمیں درپیش عظیم ترین بحران ماحولیاتی بحران نہیں جیسا کہ کمپیوٹر ماڈلز کے ذریعے ظاہر کیا گیا ہے، بلکہ انسانی بحران ہے جو حل کے لیے مکمل طور پر ہمارے اختیار میں ہے۔ بہت عرصے سے ہم غلط ترجیحات پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔”

Advanced%20Energy%20for%20Life%20is%20a%20campaign%20to%20raise عالمی توانائی افلاس کے دنیا کے نمبر ایک انسانی و ماحولیاتی بحران کے خاتمے کے لیے شعور اجاگر کرنے اور اسے سہارا دینے کی خاطر جدید توانائی برائے زندگی مہم کا آغاز

Advanced Energy for Life is a campaign to raise awareness and support to end global energy poverty, increase access to low-cost electricity and improve emissions. Please join in the campaign. Visit us at AdvancedEnergyForLife.com and Advanced Energy for Life on Facebook, YouTube, Tumblr, Google+ and Vine. Use our Twitter handle @AdvancedEnergy.

طویل المیعاداعدادوشمار کے رحجانات بھی سستی توانائی کی ضرورت کو تحریک دے رہے ہیں۔ عالمی آبادی ہر روز 200,000 افراد کے حساب سے بڑھ رہی ہے۔ اور اقوام متحدہ کے شعبہ اقتصادیات و سماجی امور کے مطابق شہری علاقے 2020ء تک سالانہ 70 ملین سے زیادہ افراد سے آباد ہونے کی پیش گوئی ہے۔

توانائی افلاس کے خاتمے اور سستی بجلی تک رسائی میں اضافے کے کسی بھی اقدامی منصوبے کے لیے توانائی کی تمام اقسام ضروری ہیں۔ کوئلہ دنیا کا سب سے وافر مقدار میں موجود توانائی ذریعہ ہے اور تیزی سے بڑھتا ہوا اہم ایندھن بھی۔ اور بین الاقوامی توانائی ایجنسی اور دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق کوئلہ آنے والے سالوں میں تیل کی جگہ سب سے بڑا توانائی ذریعہ بن جائے گا۔ اس لیے کوئلہ عالمی توانائی افلاس کے خاتمے اور سستی بجلی تک رسائی بڑھانے کے لیے جنگ میں اہم کردار ادا کرتا ہے جبکہ آج کی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے اخراج کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ کوئلہ انسانی صحت اور بہبود کے لیے صاف ماحول کے ساتھ ساتھ ایک کلید ہے۔

بوائس نے کہا کہ “اگر کوئلےکو بڑے پیمانے پر بجلی اور ترکیبی قدرتی گیس میں تبدیل کیا جائے تو یہ ایک بنیادی ماحولیاتی حل ہے ۔ کوئلے سے ایندھن پانے والی بجلی اور ترکیبی قدرتی گیس ایندھن کے حصول کے لیے بڑے پیمانے پر جنگلات کی کٹائی اور ساتھ ساتھ توانائی افلاس کے بدترین اثرات کا بھی خاتمہ کر سکتی ہے۔” اپنی کمیت، دستیابی اور اخراجات کے فوائد کے لحاظ سے کوئلہ مستقبل کے لیے ایک بے مثال ایندھن ہے۔

بوائس نے کہا کہ “کوئلے کے استعمال کو محدود اور توانائی کو قلیل المقدار اور مہنگا کرنے کی مہم ناقابل برداشت ہے، یہ عوام اور ماحول کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ صحت اور ماحول کے بڑے فوائد توانائی افلاس اور گھریلو فضائی آلودگی کے خاتمے اور کم خرچ توانائی تک رسائی بڑھانے میں ہیں۔ دنیا میں رہنے والا ہر شخص ترقی یافتہ اقوام کی طرح جینے کا حق رکھتا ہے۔ آئیے زیادہ توانائی استعمال کریں، زیادہ صفائی کے ساتھ، ہر روز۔”

ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کوئلے کی قوت کا مظاہرہ دنیا بھر میں ہوچکا ہے۔

- امریکہ میں تقریباً 40 فیصد بجلی کی پیداوار کے لیے کوئلہ استعمال ہوتا ہے۔ کوئلہ استعمال نہ کرنے والی ریاستیں ان ریاستوں کے مقابلے میں بجلی کے 50 فیصد زیادہ نرخ رکھتی ہیں جو بجلی کی پیداوار کے  لیے کوئلہ استعمال کرتی ہیں۔ توانائی کے زیادہ اخراجات امریکی باشندوں پر سخت محصول عائد کرتے ہیں، جبکہ کم آمدنی والے گھرانے اپنے خاندان کی آمدنی کا بڑا حصہ توانائی کے بلوں میں ادا کرتے ہیں۔ کوئلے کی ماحولیاتی پروفائل مستقل بہتر ہورہی ہے: کوئلہ 1970ء کے مقابلے میں 170 فیصد سے زیادہ بجلی کی پیداوارکے لیے استعمال ہوا، جبکہ کلیدی پاور پلانٹ اخراج بھی فی یونٹ بجلی پر تقریباً 90 فیصد تک کم ہوئے۔

آگے بڑھتے ہوئے،  پیباڈی یقین رکھتا ہے کہ امریکی پالیسی ڈھانچہ کم خرچ توانائی میں کوئلے کے کردار کو تسلیم کرے گا، موجودہ کوئلے کے کارخانوںکو تنظیمی پیش دستی سے محفوظ رکھے گا جو قبل از وقت سبکدوشی اور بجلی کے نرخوں میں اضافے کا سبب بنے گی، اور کوئلے کے نئے موثرکارخانوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کرے گا جو آج کی جدید ٹیکنالوجیاں استعمال کر رہے ہوں اور ساتھ ساتھ اگلی نسل کی ٹیکنالوجیوں پر تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری کر رہے ہوں۔

- کوئلے کی برآمدات میں آسٹریلیا دنیا میں سب سے آگے ہے۔ کوئلہ ملک کی دوسری سب سے بڑی برآمد ہے اور روزگاراور اقتصادی استحکام کے لیے ضروری ہے، رائل ملبورن انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی تحقیق کے مطابق کوئلہ معیشت میں تقریباً 43 ارب ڈالرز کا حصہ ڈالتا ہے۔ کوئلہ بجلی کی پیداوار کے لیے سستا ترین ایندھن بھی ہے۔

ایسے وقت میں جب مشکل ماحولیاتی اہداف اور محصولات نے آسٹریلیا کے خاندانوں اور کاروباروں کو مشکلات میں ڈال رکھا ہے، یہ ضروری ہے کہ نئی حکومت ناکام کاربن ٹیکس اسکیم کے مطالبے کا خاتمہ کرے، قابل تجدید توانائی اہداف کو محدود، بجلی اخراجات کو کم، ملازمتوں کو بحال اور آسٹریلیشیا خطے میں ملک کی مسابقتی برتری کو مضبوط کرنے میں مددلے۔

- چین میں کوئلے کی طلب بڑھ رہی ہے کیونکہ بجلی کی پیداوار کے لیے اس کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے اور اسے قدرتی گیس، نقل و حمل کے لیے ایندھن اور کیمیکلز میں ڈھالا جا رہا ہے تاکہ دنیا کی تیز ترین بڑھتی ہوئی معیشت کو تحریک دی جا سکے۔ چین گھروں اور کاروباری اداروں میں کوئلے کی براہ راست استعمال کو محدود کرے گا جبکہ کوئلے کا استعمال بجلی کے کارخانوںاور کنورژنایپلیکیشنز میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ ملک کوئلے کے پرانے کارخانوںکو بھی جدید یونٹوں سے بدل رہا ہے اور ساتھ ساتھ کوئلے سے ترکیبی گیس کے استعمال کو بھی مختلف ایپلیکیشنز میں استعمال کررہا ہے۔ یہ طریقہ، مع پاور پلانٹس پر اخراج کو ضابطے میں رکھنے والی تنصیبات اور پرانے کارخانوںکی جدید ٹیکنالوجی سے منتقلی، ویسا ہی ہے جیسا کہ امریکہ نے گزشتہ نصف صدی میں اختیار کیے رکھا۔

بوائس نے کہا کہ “دنیا اپنی بڑی توانائی و اقتصادی مشکلات کو حل کرنے کے لیے کوئلے کا رخ کیے ہوئے ہے، لیکن ہمیں خاندانوں کی کم خرچ بجلی تک رسائی کو بڑھانے، معیشت کو قوت بخشنے اور توانائی افلاس میں سے اربوں افراد کو نکالنے کے لیے کہیں زیادہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہمیں معقول ماحولیاتی پالیسی کی جانب نئی پیشرفت کی ضرورت ہے۔ ہمیں تسلیم ہے کہ درست راستہ آج کی جدید ٹیکنالوجیوں جیسا کہ انتہائی اہم کوئلہ تخلیق کی بڑھتی ہوئی فراہمی سے نکلتا ہے جو اخراج کو محدود کرنےکو مستقلاً جاری رکھےہوئے ہے۔ طویل المیعاد بنیاد پر آنے والی ٹیکنالوجیوں میں تحقیق و ترقی کوئلے سے تقریباً-صفر اخراج کے حتمی ہدف کی جانب رہنمائی کرسکتی ہے۔”

جدید کوئلہ ٹیکنالوجیاں آج زیر استعمال ہیں، جن میں انتہائی موثر و اہم کوئلہ تخلیق، جدید اخراج پر قابو پانے والی ایپلیکیشنزاور گیس کاری کے ذریعے کوئلہ تبدیلی کے طریق کار شامل ہیں۔ دنیا بھر میں اخراج کو بہتر بنانے کے لیے اہم قدم ان موجودہ ٹیکنالوجی کی زیادہ بڑے پیمانے پر تقسیم ہوگی۔

اگلی نسل کی ٹیکنالوجیاں جیسا کہ کاربن پکڑنے، استعمال و محفوظ کرنے کی ایپلیکیشنز کو زیادہ بڑے پیمانے پر تحقیق و ترقی سرمایہ کاری، بشمول تحقیق اور پیشرفت میں زیادہ نجی-سرکاری شراکت داریوں کی ضرورت ہے، ساتھ ساتھ کاربن محفوظ کرنے کی اجازت دینے کے لیے نئے اور بہتر قوانین کی بھی۔

“جدید توانائی برائے زندگی” مہم کے بنیادی عناصر ڈیجیٹل بنیادوں پر شعور اجاگر کرنے کا پروگرام جو بڑے پیمانے پر سستی توانائی تک رسائی کے فوائد کو نمایاں کرے اور وہ اہم کردار ہیں جو کوئلے کے ایندھن سے بننے والی بجلی سے دنیا کے توانائی مسائل کے خاتمے کے لیے ادا کرسکتےہیں، ایک تحقیقی ادارہ جو تحقیق و پالیسی جھکاؤ رکھنے والے سرمایہ دانش کو بنائے اور تقسیم کرے؛ حکومتوں، ادارہ اور دیگر اسٹیک ہولڈرز تک براہ راست رسائی تاکہ ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جو توانائی رسائی کو بڑھائیں اور جدید ٹیکنالوجیوں کی پیشرفت اور استعمال کو پھیلائیں۔

جدید توانائی برائے زندگی ایک مہم ہے جس کا مقصد عالمی توانائی افلاس کا خاتمہ کرنے، کم خرچ بجلی تک رسائی کو بڑھانے اور آج کی جدید صاف کوئلہ ٹیکنالوجیز کے استعمال سے اخراج کو بہتر بنانے کے لیے شعور اجاگر کرنے اور مدد فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔ اس مہم میں شمولیت اختیار کیجیےAdvancedEnergyForLife.com اور فیس بک، یوٹیوب، ٹمبلر، گوگل+ اور وائن پر جدید توانائی برائے زندگی ملاحظہ کیجیے۔ ہمارا ٹوئٹر ہینڈل @AdvancedEnergy ہے۔

مزید معلومات:

بیتھ سٹن، نائب صدر

گلوبل ایڈووکیسی کمیونی کیشنز
1.928.699.8243+

(لوگو: http://photos.prnewswire.com/prnh/20140226/CG70548LOGO)
(لوگو: http://photos.prnewswire.com/prnh/20120724/CG44353LOGO)

Leave a Reply