مرک نے وائرس کے خلاے مزاحمت رکھنے والے سی ایچ او خلیاتی سلسلے کے لیے نئی جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی جاری کردی

– منٹ وائرس آف مائس کثافت خطرے کو کم کرتا ہے
– خلیاتی سلسلے کی پیداواری صلاحیت اور لحمیاتی معیار کو برقرار رکھتے ہوئے وائرل حفاظت کو بہتر بناتا ہے

ڈارمسٹاڈٹ، جرمنی، 8 ستمبر 2016ء/پی آرنیوزوائر/– معروف سائنس و ٹیکنالوجی ادارے مرک نے آج اپنی نوعیت کی پہلی جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی جاری کردی ہے تاکہ منٹ وائرس آف مائس (ایم وی ایم) کے خلاف مزاحمت رکھنے کے لیے سی ایچ او سیل سلسلہ کو تبدیل کر سکے، یہ کثافت کا ایک عام خطرہ ہے جو کیمیائی، وضع کردہ، جانور اجزا سے پاک ساخت گری کے عمل میں تبدیلی کے باوجود بدستور موجود ہے۔ سی ایچ او خلیات حیاتیاتی ساخت گری میں عام استعمال ہوتے ہیں۔

تصویر – http://photos.prnewswire.com/prnh/20160906/404353

مرک کی نئی سینٹینل ٹ م ٹیکنالوجی ان جینز کو ہدف بناتی ہے جس نے ایم وی ایم استعداد میں اہم کردار ادا کیا۔ وائرل کثافت جیسا کہ ایم وی ایم حیاتیاتی ادویات سازی کرنے والوں پر بڑے نتائج مرتب کر سکتی ہے جو صنعتی رپورٹوں کے مطابق سینکڑوں ملین ڈالرز کا خسارہ رکھتی ہے۔ ایسی کثافت مریضوں پر بدترین اثر ڈال سکتی ہے، کیونکہ علاج تک رسائی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ سینٹینل ٹ م ٹیکنالوجی لحمیات کے معیار اور خلیاتی سلسلے کی پیداوار کی برابر سطح برقرار رکھتے ہوئے ساخت گروں کو ایم وی ایم کثافت کے خطرے کو کم کرنے کے لیے اضافی راستہ فراہم کرتی ہے۔

مرک ایگزیکٹو بورڈ کے رکن اور سی ای او لائف سائنس ادت بٹرا نے کہا کہ “سینٹی ٹی ایم پروگرام صرف ایک مثال ہے کہ ہم سالوں کے تجربے اور عملی پیشرفت، حیاتیاتی ساخت گری اور جین ایڈیٹنگ ذرائع کو کس طرح ملا رہے ہیں تاکہ اپنے صارفین اور ان کے مریضوں کی حفاظت میں اضافہ کر سکیں۔ ہم صنعت کے چند پیچیدہ ترین چیلنجز اور ولولہ انگیز ایپلی کیشنز، بشمول خلیاتی علاج، سے نمٹنے کے لیے تجربے اور ٹیکنالوجیوں کے انوکھے ملاپ کا فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں۔”

سینٹینل ٹ م پروگرام کے تحت مرک صارفین کے سی ایچ او خلیات کے سلسلے کو تبدیل کر سکتا ہے تاکہ ایم وی ایم کے خلاف وائرل مزاحمت فراہم کرے۔ وائرل مزاحمت کے خلاف جین ایڈیٹنگ طریقے میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کے لیے ایک پیٹنٹ ایپلی کیشن جمع کرا دی گئی ہے۔

ادارے کی بایوریلائنس (ر) ٹیسٹنگ سروسز ایم وی ایم مزاحمت کی توثیق کر سکتی ہیں اور مظاہرہ کرتی ہیں کہ وائرس خلیات کے سلسلے میں افزائش نہ کر پائے۔ متبادل کے طور پر صارفین خلیات کے سلسلے کو براہ راست تبدیل کرنے کے لیے زنک فنگر نیوکلیز جوڑیاں خرید سکتے ہیں۔

مرک کی نئی سینٹینل ٹ م ٹیکنالوجی جین ایڈیٹنگ اور حیاتی ساخت گری کے عمل میں ادارے کے تجربے پر مشتمل ہے، اور ساتھ ساتھ انضباطی ماحول میں اس کی وسیع معلومات پر بھی۔ حیاتی ساخت گری کی حفاظت کو بہتر بنانے کے علاوہ مرک اس تجربے اور طریقے کو دیگر ٹیکنالوجیاں اور خدمات بنانے میں بھی لاگو کر رہا ہے جن میں خلیاتی علاج کی صنعت کو سہارا دینا شامل ہے۔

ای میل کے ذریعے تقسیم کیے گئے مرک کے تمام خبری اعلامیے دستیابی کے ساتھ ہی مرک کی ویب سائٹ پر بھی جاری کیے جاتے ہیں۔ آن لائن رجسٹر ہونے، اپنے انتخاب کو تبدیل کرنے یا سروس کو ختم کرنے کے لیے www.merckgroup.com/subscribe پر جائیں۔

مرک کے بارے میں
مرک صحت عامہ، حیاتی سائنس اور کارکردگی کے مواد میں معروف سائنس و ٹیکنالوجی ادارہ ہے۔ تقریباً 50,000 ملازمین ایسی ٹیکنالوجیوں کو بہتر بنانے کے لیے کام کرتے ہیں جو بہتر اور اضافی زندگی کو ممکن بناتی ہیں – حیاتی ادویات سازی علاج سے لے کر سرطان اور بافتوں کی مختلف سختیوں، سائنسی تحقیق و پیداوار کے لیے جدید نظام، اسمارٹ فونز اور ایل سی ڈی ٹیلی وژنز کے لیے مائع کرسٹل تک۔ 2015ء میں مرک نے 66 ممالک میں 12.85 بلین یوروز کی فروخت کیں۔

1668ء میں قائم ہونے والا مرک دنیا کا قدیم ترین ادویات ساز و کیمیائی ادارہ ہے۔ اس کی بنیاد رکھنے والا خاندان عوامی سطح پر مندرج اس کاروباری گروپ کے بیشتر حصص رکھتا ہے۔ ادارہ مرک کے نام اور برانڈ کے عالمی حقوق رکھتا ہے۔ واحد استثنا صرف امریکا اور کینیڈا ہے جہاں ادارہ ای ایم ڈی سیرونو، ملی پور سگما اور ای ایم ڈی پرفارمنس مٹیریلز کے نام سے کام کرتا ہے۔