معیارِ موت کو بہتر بنانے کا مطالبہ –سکون آور علاج کو جامع صحت عامہ کا حصہ بنانا حکومتوں کے لیے ناگزیر

2015ء معیارِ موت اشاریہ کے نتائج کے ردعمل میں عالمی و علاقائی سکون آور علاج انجمنوں کا 10 اکتوبر 2015ء کو عالمی مریض خانہ و سکون آور علاج کے دن سے قبل طریقہ علاج پر ورلڈ ہیلتھ اسمبلی (ڈبلیو ایچ اے) کی قرارداد پر حکومتوں سے عمل کا مطالبہ

تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ چند کم آمدنی والے ممالک نے جدت طرازی اور منصوبوں کے ساتھ رحجان کا فائدہ اٹھایا اور ترقی یافتہ ممالک سے بہتر کارکردگی پیش کی

سنگاپور، 6 اکتوبر 2015ء/پی آرنیوزوائر– لین فاؤنڈیشن نے خطرناک امراض میں مریض کو زیادہ سے زیادہ آرام پہنچانے کے لیے سکون آور علاج کی ترویج کو تیز تر کرنے اور بہتر بنانے کے لیے حکومتوں اور پالیسی سازوں کو طلب کیا ہے کہ دنیا بھر کی علاقائی و ملکی سکون آور علاج کی انجمنیں فوری قدم اٹھانے کی اہمیت پر زور دیں کیونکہ اکنامک انٹیلی جنس یونٹ کا 2015ء معیارِ موت (کیو او ڈی) اشاریہ ظاہر ہوچاک ہے:

  • سکون آور علاج تک بڑھتی ہوئی رسائی کے لیے قومی سکون آور علاج کی پالیسیاں اور حکمت عملی ضروری ہیں۔ کئی درجہ اول کے ممالک جامع ڈھانچے رکھتے ہیں جو سکون آور علاج کو صحت عامہ کے نظاموں میں شامل کرتی ہے۔ مثال کے طور پر چلی (27 واں) سکون آور علاج کو موجودہ صحت عامہ کی خدمات اور افیونی رسائی کے لیے پالیسی میں شامل کرتا ہے۔ . [2]
  • سکون آور علاج کو سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ صحت عامہ کے اخراجات میں بچت دیتی ہے۔ حالیہ تحقیق نےظاہر کیا کہسکون آور علاج کو ابتداء میں شامل کرنا کس طرح صحت عامہ کے اخراجات کو کم کرسکتا ہے۔ اس کو متعدد سرفہرست ممالک کی جانب سے اچھی طرح تسلیم کیا گیا ہے۔
  • گو کہ آمدنی کی سطحیں سکون آور علاج کی دستیابی اور معیار کا مضبوط اشاریہ ہیں، لیکن کم امیر ممالک بھی تیزی سے سکون آور علاج کے معیارات کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ منگولیا (28 واں)، پاناما (31 واں) اور یوگینڈا (35 واں) جدت طراو اور انفرادی رہنمائی کے منصوبوں کے ذریعے سکون آور علاج میں آگے بڑھے۔
  • سکون آور علاج کے لیے طلب چند ممالک میں تیزی سے بڑھے گی جو اس کو پورا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔ ہنگری (41 واں)، یونان (56 واں) اور چین (71 واں) جیسے ممالک محدود رسائی  لیکن سکون آور علاج کے لیے تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب رکھتے ہیں۔ عوامی طلب کو پورا کرنے کے لیے انہیں متحرک سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔
  • شعور اجاگر کرنے اور موت کے بارے میں گفتگو کی حوصلہ افزائی کے لیے مقامی برادری کی شمولیت ناگزیر ہے۔ تائیوان (چھٹے) نے سکون آور علاج کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے مرکزی دھارے کے اور سوشل میڈیا کوکامیابی سے استعمال کیا۔

مندرجہ بالا نتائج کو دیکھتے ہوئے دنیا بھر میں سکون آور علاج کے حامیوں نے پالیسی سازوں سے مطالبہ کیا کہ وہ 2014ء کی عالمی صحت اسمبلی میں سکون آور علاج کے حوالے سے منظور کی گئی ڈبلیو ایچ اے قرارداد پر عملی اقدامات اٹھائے۔ قرارداد معیار زندگی، بہبود، آرام اور انسانی وقار کو بہتر بنانے کے لیے بنیاد کی حیثیت سے سکون آور علاج کو تسلیم کرتی ہے۔ قرارداد رکن ممالک پر زور دیتی ہے کہ وہ:

  • تمام قومی صحت پالیسیوں اور بجٹ میں سکون آور علاج کو شامل کریں
  • صحت عامہ کے نظاموں میں سکون آور علاج کو شامل کریں
  • یقینی بنائیں کہ سکون آور علاج صحت کے تمام کارکنوں کے لیے بنیادی اور مسلسل تعلیم و تربیت میں شامل ہو
  • تمام ضروری سکون آور علاج ادویات کی مناسب رسد دستیاب رکھیں، جن میں تمام مریضوں کے لیے سخت تکلیف والی ادویات بھی شامل ہوں۔

تمام رکن ریاسوں کو آنے والی عالمی صحت اسمبلی 2016ء میں ڈائریکٹر جنرل کے روبرو قرارداد کے نفاذ پر ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کرنا ہوگا۔ [3]

سنگاپور کے انسان دوست ادارے لین فاؤنڈیشن کی جانب سے شروع کیا گیا 2015ء کیو او ڈی اشاریہ 80 ممالک میں سکون آور علاج کی ایک اضافی اور بہتر درجہ بندی ہے، جو 2010ء میں اپنے پہلے اجراء میں جڑیں رکھتی ہے [4]۔ حالیہ تحقیق کے لیے دنیا بھر کے 120 ماہرین سے مشاورت کی گئی۔ لین فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو افسر جناب لی پوہ واہ نے کہا کہ “سکون آور علاج انسانی صحت عامہ کے نظام کا بنیادی ستون ہونی چاہیے، جسے تکلیف رفع کرنے کی ذمہ داری سے رہنمائی حاصل ہو۔ ہم میں سے سب پر لازم ہے کہ غور کریں اور اپنے صحت عامہ کے نظاموں، اداروں اور ثقافتی روایتوں میں رکاوٹوں کو دور کریں؛ اور ساتھ ساتھ مرنے کے لیے دیکھ بھال کو بہتر بنانے کی خاطر اپنی حکومت سے وسیع تر احتساب کا مطالبہ کریں۔”

گو کہ تازہ ترین کیو او ڈی نے درجہ بندی چند ممالک میں پالیسی مداخلت اور عوامی شمولیت کے مثبت اثرات کو ظاہر کیا، لیکن دنیا بھر میں سکون آور علاج کو پورا کرنے کے لیے زیادہ تر کام باقی ہے۔ اندازوں نے ظاہر کیا کہ جنہیں ضرورت ہو ان میں سے 10 فیصد سے بھی کم کو درحقیقت سکون آور علاج میں ملتی ہے [5]۔ مزید برآں، معمر افراد کا  تناسب اور سرطان کا پھیلاؤ کئی ممالک میں بڑھ رہا ہے۔ اشاریہ نے یہ بھی نمایاں کیا کہ سرفہرست ممالک بھی “ہر شہری کے لیے مناسب سکون آور علاج فراہم کرنے میں جدوجہد کرتے دکھائی دیے۔” [6]

صحت عامہ کے نظاموں میں سکون آور علاج کی شمولیت ضروری

ورلڈوائیڈہوسپائس پیلی ایٹو کیئر الانس کے سینئر فیلو ڈاکٹر اسٹیفن کونر نے کہا کہ “سب سے بڑا مسئلہ یہہے کہ ہمارے صحت کے نظام شدید دیکھ بھال فراہم کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں، جبکہ ہمیں جس کی ضرورت ہے وہ دائمی دیکھ بھال ہے ۔۔ دنیا بھر میں تقریباً یہی حال ہے۔” صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے جب ممالک اپنے صحت کے نظاموں میں قومی سکون آور علاج کو نافذ کرنا شروع کریں۔ مثال کے طور پر امریکا (نواں) مریض خانہ دیکھ بھال میڈی کیئر کے لیے حکومت کی ادائیگی کے ذریعے سکون آور علاج پر بڑے اخراجات کررہا ہے [7]۔ زندگی کے خاتمے کے فیصلوں کے لیے یہ ایک کیئر پلاننگ ایکٹ بھی رکھتا ہے۔ منگولیا اور جنوبی افریقہ جیسے دیگر کم آسودہ ممالک بھی سکون آور علاج کی شمولیت سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ منگولیا قابل تعریف 28 ویں درجے پر ہے اور اپنی صحت و سماجی بہبود کی قانونی سازی کے حصے کے طور پر سکون آور علاج کو شامل کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے، اور  جنوبی افریقہ (34 واں) کا قومی کینسر کنٹرول پروگرام اپنی مریض خانہ تحریک کی وجہ سے سکون آور علاج کا انتہائی مکمل نمونہ رکھتا ہے۔

صحت کے کارکنوں کے لیے سکون آور علاج کی معلومات اور تربیت پھیلانا

صحت کے کارکنوں کو سکون آور علاج میں بہتر معلومات اور تربیت دی جانی چاہیے تاکہ  اسے زندگی میں جامع دیکھ بھال کا حصہ بنائیں۔ “تبدیلی میں ہوسکتا ہے کہ بہت وقت لگے،” ڈاکٹر شیلا پین، صدر یورپین ایسوسی ایشن فار پیلی ایٹو کیئر (2011-2015ء) نے کہا۔ “لیکن اگر سکون آور علاج ہر کسی کی بنیادی تعلیم میں شامل ہو، تو کوئی بھی تکلیف کی نگرانی کو سمجھے بغیر آگے نہیں آئے گا، مریضوں اور اہل خانہ سے کس طرح رابطہ کریں یا نفسیاتی، سماجی و روحانی دیکھ بھال سکون آور علاج کا حصہ ہے، ایک اضافی چیز نہیں۔”

ایشیا بحر الکاہل میں چین (71 واں)، بھارت (67 واں) اور فلپائن (78 واں) جیسے ممالک میں سکون آور علاج کی طلب میں بہت تیزی سے اضافہ ہوگا۔ ایشیا پیسفک ہوسپائس پیلی ایٹو کیئر نیٹ ورک کے چیئر ڈاکٹر سنتھیا گوہ نے تبصرہ کیا کہ “ایشیا دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی رکھتا ہے جس میں دو بڑی اقوام چین اور بھارت بھی شامل ہیں۔ ان ممالک میں سکون آور علاج کی فراہمی اور ضرورت کے درمیان فرق بہت زیادہ وسیع ہے۔ مزید برآں چین کی آبادی معمر ہو رہی ہے اور دونوں ممالک کو سرطان، دل کے امراض اور ذیابیطس جیسے غیر متعدی امراض میں اضافے کے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔”

تکلیف کے لیے ادویات کی مناسب رسد کو یقینی بنانے کی ضرورت

لیکن افیونی درد رفع کرنے والی ادویات تک کافی رسائی کے بغیر سکون آور علاج کے معیار میں بہت کم بہتری ہوسکتی ہے۔ افریقن پیلی ایٹو کیئر ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناب ایمانوئیل لوئیریکا نے کہا کہ “سکون آور علاج کئی مریضوں کے لیے درد تکلیف کا بہت بڑا ذریعہ ہے، اس کو سنبھالنا معیاری سکون آور علاج میں کلید ہے۔ طاقتور درد ادویات کی دستیابی اور رسائی میں کمی، خاص طور پر افیونی درد رفع ادویات، دیکھ بھال میں بدستور بڑی رکاوٹ ہے۔ ہر کوشش سب تک رسائی کو لازمی یقینی بنائے۔”

ای آئی یو نے بتایا کہ سروے میں شامل 80 میں سے صرف 33 ممالک میں آزادانہ قابل رسائی اور دستیاب افیونی درد رفع کرنے والی ادویات پائی گئیں۔ درد ادویات تک رسائی میں رکاوٹ سرخ فیتہ، قانونی رکاوٹوں، تربیت اور شعور کی کمی، اور ساتھ ساتھ سماجی بدنامی بھی ہے۔ افیونی درد رفع کرنے والی ادویات کی عالمی کھپت کا 90 فیصد سے بھی زیادہ چند ترقی یافتہ ممالک میں استعمال ہوتا ہے، جبکہ 80 فیصد ممالک ایسی ادویات تک بہت کم یا محدود رسائی رکھتے ہیں۔ [8]

سکون آور علاج میں سرمایہ کاری ادائیگی کرتی ہے

سکون آور علاج کے لیے بجٹ کے منہ کھولنے اور بڑے وسائل جاری کرنے کے لیے حکومتوں پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر جیمز ٹلسکی، چیئر شعبہ سائیکوسوشل اونکولوجی و س، ڈیٹا-فاربر کینسر انسٹیٹیوٹ اور برگھم اینڈ ویمنز ہسپتال، امریکا میں شعبہ سکون آور علاج کے سربراہ، نے کہا کہ “سکون آور علاج ان چند مواقع میں سے کی نمائندہ ہے جس میں ہم اچھا کرکے اچھا پا سکتے ہیں۔ شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ ہم زندگی کے معیار بلکہ مقدار کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں، ساتھ ہی اخراجات کو کم بھی کرسکتے ہیں۔” گو کہ سکون آور علاج بڑی سرمایہ کاری لیتی ہے، لیکن یہ صحت عامہ کے اخراجات میں بچت کا نتیجہ دے گی [9]۔ مثال کے طور پر حالیہ تحقیق نے پایا کہ اگر تشخیص کے دو دنوں کے اندر سرطان کے مریضوں کو سکون آور علاج دیا جائے تو یہ بچت کو 24 فیصد تک لے جا سکتی ہے۔ کیو او ڈی تحقیق نے اشارہ کیا کہ “سخت شفا بخش صحت مداخلت سے درد اور علامات کو زیادہ مکمل انداز میں سنبھالنے کی کوشش صحت کے نظاموں پر بوجھ کو کم کرسکتی ہے اور مہنگے لیکن بے اثر طریقہ علاج کے استعمال کو محدود کرسکتی ہے۔”

بات مکمل کرتے ہوئے ڈاکٹر کونر نے کہا کہ “2014ء عالمی صحت اسمبلی قرارداد برائے سکون آور علاج استحکام عالمی سکون آور علاج کے لیے اب تک ہونے والی بہت اہم پیشرفت ہے، ہماری تحریک کے آغاز سے اب تک۔ یہ ممالک اور عالمی ادارۂ صحت کے لیے ناگزیر موقع  ہے کہ وہ سکون آور علاج بنانے میں پیشرفت کو تحریک دے سکتا ہے، بالخصوص کم اور درمیانی آمدنی کے ممالک میں جہاں نہ پوری کی گئی ضروریات سب سے زیادہ ہیں۔”

اکنامک انٹیلی جنس یونٹ کے 2015ء معیارِ موت اشاریہ نے 5 زمرہ جات میں 20 مقداری و معیاری اشاریوں کو استعمال کرتے ہوئے 80 ممالک کا احاطہ کیا: ان زمرہ جات میں سکون آور علاج اور صحت عامہ کا ماحول؛ انسانی وسائل؛ دیکھ بھال کا قابل دسترس ہونا؛ معیار دیکھ بھال؛ اور برادری کی شمولیت کی سطح شامل ہیں۔

لین فاؤنڈیشن کے بارے میں (www.lienfoundation.org)

لین فاؤنڈیشن سنگاپور کا ایک انسان دوست ادارہ ہے جو اپنے بنیادی انسان دوست نمونے کے لیے معروف ہے۔ یہ جدت طراز حلوں میں سرمایہ کاری کرتا، تزویراتی شراکت داروں کو اکٹھا کرتا اور سماجی و ماحولیاتی چیلنجز پر عمل کو تحریک دیتا ہے۔ فاؤنڈیشن لائق ستائش ابتدائی بچپن تعلیم کو مضبوط کرنے، بزرگوں کی دیکھ بھال میں امتیاز حاصل کرنے  اور فراہمی و نکاسی آب میں موثر ماحول دوستی پیش کرنا چاہتا ہے۔ بزرگوں کی دیکھ بھال کے شعبے میں فاؤنڈیشن کی توجہ ایسے منصوبوں کے ذریعے اختتام زندگی کی فکر پر ہے  جیسا کہ 2010ء میں پہلا عالمی معیار موت اشاریے کا اجراء اور موت کی دیکھ بھال میں جدت طرازی پر ڈیزائن آف ڈیتھ مقابلہ شامل ہیں۔ یہ ایشیا پیسفک ہوسپائس اینڈ پیلی ایٹو کیئر نیٹ ورک کے ساتھ شراکت داری میں لین کولابوریٹو فار پیلی ایٹو کیئرکے ذریعے ترقی پذیر ممالک میں سکون آور علاج قیادت اور گنجائش کو بھی بہتر بناتا ہے۔

مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے، www.qualityofdeath.org۔

روابط برائے ذرائع ابلاغ
گینیویو کیوک، کیرن کمیونی کیشنز، gen@qeren.biz، +65 9763 3110
مے تان، کیرن کمیونی کیشنز، may@qeren.biz، +65 9791 3059

[1] عالمی صحت اسمبلی، عالمی ادارۂ صحت کی ایک ایک فیصلہ ساز انجمن جو اس کی رکن ریاستوں کے نمائندوں پر مشتمل ہے، نے قرارداد منظور کی۔

[2] برینڈز کیمرون اور اینا سانتوس سالس “بنیادی صحت عامہ کے تناظر میں سکون آور علاج کی فراہمی کی تفہیم: چلی میں ایک مقامی برادری کے مقام پر ہونے والی ابتدائی تحقیق سے حاصل ہونے والے معیاری نتائج” ، جرنل آف پیلی ایٹو کیئر، جلد 25، نمبر 4، 275-283، 2009ء۔ دستیاب http://uofa.ualberta.ca/nursing/-/media/nursing/about/docs/cameronsantossalas.pdf

[3] http://apps.who.int/gb/ebwha/pdf_files/WHA67/A67_R19-en.pdf

[4] پہلے  معیار موت اشاریے نے دنیا بھر میں سکون آور علاج کی فراہمی پر پالیسی مذاکرے چھیڑے۔ 2015ء اشاریہ 5 زمروں میں 20 اشاریوں کی وسیع شدہ اقسام رکھتا ہے: سکون آور اور صحت عامہ کا ماحول؛ انسانی وسائل؛ دیکھ بھال کی قابل مقدوریت؛ دیکھ بھال کا معیار؛ اور برادری شمولیت کی سطح۔

[5] گلوبل اٹلس آف پیلی ایٹو کیئر ایٹ دی اینڈ آف لائف، ورلڈوائیڈ ہوسپائس پیلی ایٹو کیئر الائنس اور عالمی ادارۂ صحت، جنوری 2014ء، دستیاب از http://www.who.int/nmh/Global_Atlas_of_Palliative_Care.pdf

[6] 2015ء معیار موت اشاریہ، اکنامک انٹیلی جنس یونٹ

[7] میڈی کیئر ایک امریکی وفاقی پروگرام ہے جو 65 سال سے زائد عمر کے تمام افراد کو صحت بیمہ فراہم کررہا ہے۔

[8] گلوبل اٹلس آف پیلی ایٹو کیئر ایٹ دی اینڈ آف لائف، ورلڈوائیڈ ہوسپائس پیلی ایٹو کیئر الائنس اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن، جنوری 2014ء۔ دستیاب http://www.who.int/nmh/Global_Atlas_of_Palliative_Care.pdf

[9] پیٹر مے و ہمنوا، پروسپیکٹو کوہرٹ اسٹڈی آف ہاسپٹل پیلی ایٹو کیئر ٹیمز فار ان پیشنٹس ون ایڈوانسڈ کینسر: ارلیئر کنسلٹیشن از ایسوسی ایٹڈ ود لارجر کوسٹ-سیونگ افیکٹ، جرنل آف کلینکل اونکولوجی، جون 2015ء۔