میڈیا میں کاروباری اثرات کے اضافے پر تشویش

کراچی 09 ستمبر 2016 —  کراچی کے صحافیوں کا کہنا ہے کہ شہر میں امن و امان بہتر ہونے سے صحافیوں کیلئے خطرات کچھ کم ہوئے ہیں لیکن اب اداروں کے مالکان کا دباو بڑھ گیا ہے۔میڈیا زیادہ کمرشلائیز ہونے سے عوامی مفادات کے بجائے اداروں کے مفادات کی خبروں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان پریس فائونڈیشن کی جانب سے منعقد تین روزہ میڈیا ورکشاپ کے دوران کیا۔ جرنلزم اسکلزپر مبنی یہ ورکشاپ انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ اور ڈینمارک سفارتخانہ اسلام آباد کے تعاون سے مقامی ہوٹل میں منعقد کی گئی، جس میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے مرد اور خواتین صحافیوں نے شرکت کی۔

ہمنہ مہوش کا کہنا تھا کہ اب میڈیا میں کمرشلزم زیادہ آنے کی وجہ سے ناظرین اورقارئیں کی ضرورت اور عوامی مفادات کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ غفران نے کہا کہ شہر سے اگر امن امان کی صورتحال ٹھیک ہوئی ہے توادارے کے اندر سے خبروں کی نوعیت کے حوالے سے دباو بڑھ گیا ہے۔

غلام رسول کنبھر نے کہا کہ کراچی شہر میں فاصلوں کی وجہ سے صحافی کو کام کرنے میں دقت پیش آتی ہے۔ خاص طور پر سندھی میڈیا میں ورکرز کی ضروریات کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ بارہ گھنٹے سے زائد ڈیوٹی لی جاتی ہے۔

مرجان کا کہنا تھا کہ کراچی شہر میں میڈیا میں کام کرنے والی خواتین کوسب سے زیادہ مسئلہ ٹرانسپورٹ کا ہے۔ کئی ادارے خواتین نیوز کاسٹرز کو ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرتے ہیں لیکن رپورٹرز کو یہ سہولت فراہم نہیں کرتے۔ انہیں سخت مشکل سے گذر کر کام پر جانا پڑتا ہے۔

ماریا اسماعیل نے کہا کہ میڈیا پر اب کراچی میں مسلح دباو کم ہوا ہے لیکن پھر بھی میڈیا خوف میں مبتلا ہے۔ فیصلے کرنے میں آزاد نہیں۔ اس کی مثال اے آر وائی سمیت دیگر ٹی وی چینلز پر ہونے والے حملے ہیں۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ صحافتی اسکلز کیلئے اداروں کو بنیادی کام کرنا چاہیئے۔ ورکروں کو تربیت کے حق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے پاکستان پریس فائونڈیشن کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بنیادی معلومات کی تربیت فراہم کی۔

تربیت کار کے فرائض قاضی آصف نے ادا کئے جبکہ نسیم شیخ نے پروگرام کو کوآرڈینیٹ کیا۔