نئی اقوام متحدہ تحقیق 10 سرفہرست طریقوں کا خاکہ کھینچتی ہے جس سے حکومتیں اور ادارے ڈجیٹل معیشت تخلیق کر سکتے ہیں

پہلی بار 25 ممالک سے نئے شواہد ظاہر کرتے ہیںکہ حکومتیں اور ادارے کس طرح نقد سے منتقل ہو سکتے ہیں، کیونکہ میک کنسی گلوبل انسٹیٹیوٹ ممکنہ 3.7 ٹریلین ڈالرز جی ڈی پی اضافے کو ظاہر کرتا ہے

نیو یارک، 21 ستمبر 2016ء/پی آرنیوزوائر/– اقوام متحدہ میں قائم بیٹر دین کیش الائنس کی نئی رپورٹ دس معقول اقدامات ظاہر کرتی ہے جو حکومتیں اور ادارے نقدی کا غلبہ رکھنے والی معیشت کو پیچھے چھوڑ اور ادائیگیوں کی ڈجیٹائزیشن کو قبول کر سکتی ہیں۔

لوگو – http://photos.prnewswire.com/prnh/20120919/CG77018LOGO

یہ رپورٹ عین اس وقت سامنے آئی ہے جب میک کنسی گلوبل انسٹیٹیوٹ نے خاکہ پیش کیا ہے کہ ڈجیٹل مالیات 2025ء تک 3.7 ٹریلین ڈالرز کا جی ڈی پی اضافہ، تمام شعبوں میں 95 ملین نئی ملازمتیں تخلیق اور ابھرتے ہوئے ممالک میں رساؤ میں سالانہ 110 بلین ڈالرز بچا سکتی ہیں۔

نقد سے ڈیجیٹل ادائیگی میں منتقلی کے فوائد کو سہارا دینے والے بڑے شواہد موجود ہیں لیکن اپنے بل بوتے پر نفاذ حکومتوں کے لیے مشکل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسی معیشت کامیابی سے تخلیق کرنے کو، جہاں ڈجیٹل ادائیگی بڑے پیمانے پر دستیاب ہو، سرکاری و نجی شعبے کے کئی اداروں کے درمیان ایک باہمی طریقے کی ضرورت ہوتی ہے۔

بیٹر دین کیش الائنس نے تحقیق 25 ممالک کا جائزہ لیا، جن میں بھارت، نائیجیریا، تنزانیا، گھانا، برازیل اور میکسیکو سمیت دیگر شامل ہیں۔ جو سامنے آیا وہ دس ‘سرعت پذیر’ یا اقدامات تھے جو معیشتوں کو تخلیق دینے میں آگے بڑھانے پر مضبوط اثر رکھنے والے ثابت ہوئے جہاں ڈجیٹل ادائیگی بڑے پیمانے پر دستیاب ہے۔

بیٹر دین کیش الائنس کے مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر روتھ گڈون-گروئن نے کہا کہ “ڈجیٹل مالیات پر سب کے لیے نئی میک کنسی گلوبل انسٹیٹیوٹ تحقیق کو ابھرتے ہوئے ممالک کی قیادت کو متاثر کرنا چاہیے کہ وہ ایسی معیشتیں تخلیق کرنے کی طرف تیزی سے قدم بڑھائیں جہاں ڈجیٹل ادائیگیاں وسیع پیمانے پر دستیاب ہوں۔ ہم آج بھی ایک تحقیق جاری کر چکے ہیں جو ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح حکومتیں اور ادارے نقد سے دور منتقل ہو سکتے ہیں۔ ایک ڈجیٹل معیشت کا قیام کافی محنت طلب ہو سکتا ہے لیکن جیسا کہ نئے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ مکمل طور پر قابل رسائی ہے اور یہ مجموعی نو کو تحریک اور لوگوں کو غربت سے باہر نکلنے میں مدد دے گا۔”

یہ رپورٹ ڈجیٹل ادائیگی میں منتقلی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو نمایاں کرتی ہے۔ رپورٹ میں جمع کیا گیا ڈیٹا ڈجیٹل ادائیگی کے ساتھ آنے والے فوائد کے ثبوت فراہم کرتا ہے، جس میں شامل ہیں:

  • بھارت ایندھن پر سبسڈیز کو ڈجیٹائز کرکے ہر سال 2 بلین امریکی ڈالرز بچاتا ہے ساتھ ہی ادائیگی رساؤ کو بھی کم کر رہا ہے۔
  • تنزانیا میں کاروبار-سے-حکومت ادائیگی فراہمی کو ڈجیٹائز کرنے سے سالانہ آمدنی رساؤ میں 175 ملین امریکی ڈالرز کی درستگی آئی ہے اور اس میں 1.8 ارب امریکی ڈالرز تک جی ڈی پی کو بہتر بنانے کا امکان ہے۔
  • برازیل حکومت کی جانب سے عوام پر خرچ کی گئی رقوم کے معاملے پر آنے والے اخراجات میں 30 فیصد سے زیادہ بچائے گئے۔
  • 20,000 پوائنٹ-آف-سیل ڈیوائسز کی تنصیب کے نتیجے میں میکسیکو نے 2014ء اور 2015ء کے درمیان اس قسم کے معاملے میں 17 فیصد شرح نمو کا تجربہ کیا۔

شواہد کے تجزیے نے 10 اقدامات کی شناخت کی جانب رہنمائی کی کہ دوسرے ممالک کس طرح پیسے بچانے، محصول کے ذریعے آمدنی میں اضافے اور بہتر زندگیوں کی طرف رہنمائی کے لیے اپنے شہریوں کو مواقع بڑھانے کو تیز کر سکتے ہیں۔

10 سرعت پذیر یہ ہیں:

  1. مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں میں تاجر قبولیت بنیادی ڈھانچے کو ترویج دیں تاکہ صارفین اور بڑی ادائیگی کرنے والوں کے رمیان بھی استعمال کو بڑھایا جا سکے۔
  2. ڈجیٹل ادائیگی مصنوعات اور خدمات کی فراہمی کے لیے موجودہ نیٹ ورکس یا پلیٹ فارمز کا فائدہ اٹھانا تاکہ ڈجیٹل ادائیگی خدمات کو زیادہ تیزی سے بڑھایا جا سکے اور ایسے طریقے سے جو لاگت کو کم کرے۔
  3. اداروں کے لیے ایک مشترکہ ڈجیٹل بنیادی ڈھانچے کی تعمیر تاکہ سرکاری و نجی اداروں دونوں میں داخلے اور جدت طرازی کے فروغ میں رکاوٹوں کو کم کیا جائے۔
  4. انٹرآپریبلٹی کا قیام تاکہ ڈجیٹل معاملے کو ایک واحد ادائیگی پلیٹ فارم تک محدود کرنے والی رکاوٹوں کو کم کیا جائے اور تسلیم شدگی اور ادائیگی قبولیت کو بڑھایا جائے۔
  5. ایک انوکھے شناختی پروگرام کی تعمیر جس تک سرکاری و نجی دونوں شعبوں کے ادارے رسائی حاصل کر سکے تاکہ ڈجیٹل ادائیگی اور مالیاتی شمولیت کو چلانے والی شناختوں کی تصدیق کریں۔ صارفی حفاظت کے ڈھانچے مناسب پرائیویسی، سکیورٹی اور ڈیٹا کنٹرول کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں۔
  6. انفرادی طور پر لوگوں کی جانب مالی لین دین کے لیے بارہا استعمال ہونے والے عام طور پر زیر استعمال معاملات کو ڈجیٹائز کرنا ڈجیٹل ادائیگی سے مانوسیت میں اضافہ اور ڈجیٹل معاملات کےحجم کو بڑھا سکتا ہے۔
  7. حکومتی ادائیگیوں کو ڈجیٹائز کرنا تاکہ معاملے پر آنے والی لاگت کو کم اور ادائیگیوں تک شہریوں رسائی کو بڑھا کر ڈجیٹل ادائیگی کے ماحول کو جدید بنایا جائے۔
  8. حکومتی رسیدوں کو ڈجیٹائز کرنا تاکہ افراد اور اداروں میں ڈجیٹل ادائیگی کے ساتھ تسلی کو فروغ دیا جائے اور یوں بالآخر رساؤ کو کم اور آمدنی کو بڑھایا جائے۔ نجی شعبے کےساتھ تعاون کلید ہے۔
  9. ایسے احکامات کرنا جو جدت طرازی اور ذمہ دار مشقوں کو فروغ دیتے ہیں، موجود قوانین کی رکاوٹوں اور کمی بیشی کو سمب کر اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرکے۔
  10. پالیسیوں کو نافذ کرنا جو ڈجیٹل ادائیگی کی سہولت کو فائدہ پہنچائیں اور بہتر بنائیں تاکہ ڈجیٹل ادائیگی تک بڑے پیمانے پر رسائي اور قبولیت کو تیز تر کیا جا سکے۔

ان سرعت پذیروں کی سوجھ بوجھ حکومتوں کو اس معلومات کو مناسب مارکیٹوں میں بہتر انداز میں لاگو کرنے کے لیے خاص طریقے بنانے میں مدد دے گی۔ رپورٹ کے ساتھ ایک ٹول کٹ منسلک ہے جو پالیسی سازوں اور اہم اسٹیک ہولڈرز کو ایسے پروگرام بنانے میں مدد دے گی۔

بیٹر دین کیش الائنس حکومتوں، اداروں اور بین الاقوامی انجمنوں کی ایک عالمی شراکت داری ہے جو نقد سے ڈجیٹل ادائیگی کی جانب منتقلی کو تیز کرتی ہے تاکہ غربت کا خاتمہ اور مجموعی نمو کو تحریک دی جا سکے۔ اقوام متحدہ کا کیپٹل ڈیولپمنٹ فنڈ اس کے سیکریٹیریٹ کی خدمات انجام دیتا ہے۔

مزید جاننے کے لیے ملاحظہ کیجیے www.betterthancash.org، فالو کیجیے @BetterThan_Cash۔