نائب صدر یورپی پارلیمان گلگت بلتستان میں ماحول کی صورتحالپر فکرمند

برسلز، 26 اکتوبر 2015ء/پی آرنیوزوائر/–

یورپی پارلیمان کے صدر کو لکھے گئے خط میں نائب صدر یورپی پارلیمان جناب ریزارڈ چارنیکی نے گلگت بلتستان میں چینی سرمایہ کاری منصوبوں کے حوالے سےاپنے خدشات کا اظہار کیا ہے، جو ماحولیاتی قواعد کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں۔

خط کا متن درج ذیل ہے:

محترم جناب شولٹز،

گلگت بلتستان میں چین بڑے ڈیموں کی تعمیر، ٹیلی مواصلاتی رابطوں اور کان کنی کی سرگرمیوں میں شامل ہے۔ یہ گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے راستے سے سنکیانگ اورکراچی و گوادرکی بندرگاہوں کے درمیان سڑکیں اور ریلوے نظام کی تعمیر کررہا ہے۔ یہ راہداری ایران کے ایندھن کو شمال کی جانب سنکیانگاور ساتھ ساتھ قازق اور روسی گیس کی پاکستان آمد کو ممکن بنائے گا۔ چینی اور پاکستانی دونوں حکومتوں نے پاکستان میں اقتصادی ترقی میں انقلاب برپا کرنے کے لیے کوششوں میں شامل ہیں۔ ان خوش کن دعووں کے باوجود ایسے کئی منصوبے چینی تکمیل کاروں اور گلگت بلتستان کی مقامی آبادی کے درمیان بڑھتے ہوئے عدم تحفظ اور تنازع کا سبب بن رہے ہیں۔

یہ بات علم میں آئی ہے کہ گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مقامی آبادیوں میں ماحولیات پر پڑنے والے منفی اثرات پر کافی ناراضگی پائی جاتی ہے۔ بڑی سرمایہ کاری کے اِن منصوبوں کو سنبھالنے اور چلانے سے وابستہ اداروں کو حکومت نے ماحولیاتی پہلو پر دھیان رکھنے کی ہدایت نہیں کی۔ کام کے لیے بیشتر سامان اُن گاڑیوں کے ذریعے لایا جا رہا ہے جو فضائی آلودگی کا سبب ہیں، اور اس منصوبے کے نتیجے میں انسانی صحت پر بڑے مضر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ منصوبے کی تعمیر کے دوران مشینری اور سازوسامان لے جانے والی گاڑیوں سے پیدا ہونے والی آوازخطے میں مقیم لوگوں کے لیے مضر اثرات رکھتی ہے۔ مقامی افراد نے کئی بار مظاہرہ کیا ہے لیکن حکومت پاکستان کے کان پر جوں تک نہیں رینگی بلکہ اس نے مظاہرین کو گرفتار بھی کیا ہے۔ اس لیے یورپی پارلیمان کو فوری طور پر گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہریوں کے خدشات پر نظر ڈالنی چاہیے۔

ذریعہ: دفتر نائب صدر ریزارڈ چارنیکی