وی آئی پی شاپ اور دی اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ نے ایشیا میں خواتین صارفین کی آن لائن قوت خرید پر رپورٹ جاری کردی

سروے میں شامل ایشیائی خواتین میں تقریباً 90 فیصد آن لائن ملبوسات اور لوازمات خریدتی ہے جبکہ 63 فیصد جواب دینے والی خواتین روزانہ آن لائن دکانوں کو تلاش کرتی ہیں

گوانگ چو، چین، 16 دسمبر 2014ء/ پی آرنیوزوائر/ — چین اور دنیا بھر میں برانڈز کے لیے سب سے بڑے آن لائن رعایتی خوردہ فروش اور ساتھ ساتھ چین میں خواتین کے لیے نمبر 1 عمودی ای-کامرس خوردہ فروش وی آئی پی شاپ ہولڈنگز لمیٹڈ (این وائی ایس ای: VIPS، vip.com) نے ایشیا میں خاتون صارفین کی بڑھتی ہوئی قوت خرید کے حوالے سے سروے پر اکنامسٹ گروپ کے دی اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ کے ساتھ شراکت داری اور آغاز کیا ہے۔

0861409493 وی آئی پی شاپ اور دی اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ نے ایشیا میں خواتین صارفین کی آن لائن قوت خرید پر رپورٹ جاری کردی

http://photos.prnasia.com/prnvar/20141216/0861409493

رپورٹ “عروج کی جانب اور آن لائن: ایشیا میں خواتین صارفین” کے عنوان سے آج جاری کی گئی  تھی، اور اس میں برعظیم چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا اور سنگاپور میں بڑے شہری علاقوں کی 5,500 خواتین کے ساتھ ساتھ صارفی تجزیہ کاروں، اہم خوردہ فروشوں اور برانڈ مالکان کا سروے کیا گیا۔ تحقیق نے پایا کہ خواتین خطے میں آن لائن خریداری کی ترقی کو تحریک دے رہی ہیں، جن میں سے کئی آف لائن پر آن لائن کو ترجیح دے رہی ہیں۔ سروے میں جواب دینے والیوں میں سے  63 فیصد  انٹرنیٹ پر کم از کم دن میں ایک مرتبہ مصنوعات اور خدمات کی تلاش کرتی ہیں، جبکہ تقریباً 30 فیصد روزانہ دو یا اس سے بھی زیادہ مرتبہ یہ کرتی ہیں۔ علاقے میں 80 فیصد سے کچھ کم خواتین کریانے کا سامان آن لائن خریدتی ہیں، 83 فیصد آرائش و زیبائش کے سامان کے لیے اور ملبوسات اور لوازمات کے لیے کچھ مزید بڑھ کر تقریباً 90 فیصد خواتین آن لائن جاتی ہیں۔

وی آئی پی شاپ کے چیئرمین اور سی ای او ایرک شین نے کہا کہ “خواتین ایشیائی مارکیٹ میں تحریک دینے والی انوکھی اور اہم قوت ہیں۔ اور وی آئی پی شاپ میں 90 ملین کل اراکین میں 80 فیصد سے زیادہ خواتین ہیں، جو ہماری فروخت کے 90 فیصد کی حامل ہیں۔ ای آئی یو کے ساتھ شراکت داری ہمیں صارفی خریداری کی عادات کے بارے میں زیادہ جاننے کا موقع دے گی اور چین میں آن لائن خوردہ مارکیٹ میں قائدانہ کردار کو بڑھانے میں مدد فراہم کرے گی۔”

عمارات میں واقع کاروباروں پر توجہ دینے والے خوردہ فروشوں کے لیے سب سے پریشان کن بات یہ کہ تقریباً نصف – 49 فیصد – خواتین نے اتفاق یا بھرپور اتفاق کیا کہ وہ دکانوں کے بجائے آن لائں شاپنگ کے تجربے کو ترجیح دیتی ہیں۔ برعظیم چین میں یہ تناسب 69 فیصد تک ہے۔

رپورٹ کے اضافی کلیدی انکشافات یہ ہیں:

  • ایشیا کے بڑے شہروں میں خواتین تیزی سے خود مختار ہو رہی ہیں۔ خطے بھر سے سروے میں جواب دینے والی 43 فیصد خواتین انتظامی، ایگزیکٹو یا ماہرانہ خدمات کے عہدوں پر موجود ہیں، جبکہ 83 فیصد گھریلو آمدنی میں حصہ ڈالتی ہیں۔
  • بیشتر خواتین بجٹ ان اشیاء کے لیے ترتیب دینے میں خود مختار ہیں آرائش و زیبائش کے سامان (81 فیصد)، ملبوسات اور لوازمات (73 فیصد)، کریانے کا سامان (67 فیصد) اور ماں و بچے کی مصنوعات (57 فیصد)، اور برقی مصنوعات اور سفری خدمات جیسے بیشتر مصنوعاتی زمروں میں بھی کم از کم فیصلہ سازی میں شریک ہوتی ہیں۔
  • کم از کم انٹرنیٹ پر کئی ایشیائی خواتین بے غرض اور اپنے خاندان پر توجہ رکھنے والی شخصیات کے عام نظریے کے مطابق جینےوالی نہیں دکھائی دیتیں۔ 62 فیصد خواتین آن لائن صورت میں بیشتر اوقات اپنے لیے خود خریداری کرتی ہیں؛ برعظیم چین میں یہ شرح 74 فیصد، اور 18 سے 29 سال کی عمر میں 77 فیصد تک بڑھ جاتی ہے۔
  • خواتین کے بعد آن لائن خریداری کے لیے مختلف وجوہات ہیں۔ زیادہ تر نے قیمت (62 فیصد) اور وقت (60 فیصد) کی بچت کا حوالہ دیا، لیکن وہ یہ بھی سمجھتی ہیں کہ آن لائن خوردہ فروش اپنی مصنوعات کی خریداری کے لیے بھروسہ کیا جا سکتا ہے (59 فیصد)، اور وہ آن لائن شاپنگ میں پیش کردہ مصنوعات کی رینج کو سراہتی ہیں (59 فیصد)۔
  • آن لائن خوردہ فروش کا انتخاب کرتے ہوئے (83 فیصد) عورتوں کا کہنا ہے کہ قیمت اہم یا بہت اہم ہے، لیکن ساتھ ہی معیار (83 فیصد)، اصلی مصنوعات (82 فیصد) اور سہولت (77 فیصد) بھی اہم ہے۔
  • پیغام و تاثر کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ ایسے پیغامات جو انہیں آزاد اور ذہین خریدار قرار دیتا ہے 56 فیصد خواتین میں پرکشش قرار پایا، 54 فیصد نے کہا کہ وہ بیوی، ماں اور دوست کی حیثیت سے پیغام کو زیادہ پرکشش سمجھتی ہیں۔
  • آن لائن شاپنگ کا مستقبل متحرک اور عمل انگیز ہے۔ سروے میں 58 فیصد کم عمر ترین (18 سے 29 سال) لڑکیوں نے بتایا کہ وہ اپنے اسمارٹ فونز سے اپنے گھر میں آن لائن خریداری کرتی ہیں، جبکہ 40 سے 49 سال کی خواتین کی یہ تعداد 38 فیصد ہے۔ مجموعی طور پر 43 فیصد عام دکانوں کے مقابلے میں زیادہ رقوم آن لائن خریداری پر خرچ کرتی ہیں، ایک مرتبہ پھر 18 سے 29 سال کی عمر کی حامل خواتین میں يہ شرح زیادہ رہی (56 فیصد)۔ 18 سے 29 سال کی نصف سے زیادہ خواتین نے مانا کہ وہ آن لائں خریداری کی زیادہ تحریک رکھتی ہیں۔

رپورٹ کی مدیر لوریل ویسٹ نے کہا کہ “خواتین ایسے کئی زمرہ جات میں اخراجات پر ضبط کررہی ہیں جن کے بارے میں آپ توقع کریں گے، جیسا کہ ملبوسات اور لوازمات، آرائش و زیبائش اور کریانے کی مصنوعات میں۔ لیکن وہ برقی جیسی بڑی مصنوعات پر بھی بڑھتا ہوا اثر رکھتی ہیں۔ کئی برانڈز اس حقیقت کو سمجھ رہے ہیں اور اس بات کو بہتر انداز میں سمجھنے کے لیے کوشش کررہے ہیں کہ خواتین صارفین کے لیے کیا ضروری ہے۔”

ای آئی یو رپورٹ کے مطابق ایشیائی خواتین “آن لائن خریداروں کے انتخاب کے وقت معیار (83 فیصد)، قیمت (83 فیصد) اور اصلی مصنوعات (82 فیصد) کو تین سرفہرست وجوہات سمجھتی ہیں۔ بلاشبہ وی آئی پی شاپ کا “آن لائن رعایتی خوردہ فروشی برائے برانڈڈ اور اصلی مصنوعات” کا کاروباری نمونہ فطرتاً خواتین کی طلب اور آن لائن خریداری کے معیار پر پورا اترتا ہے۔

ای آئی یو رپورٹ یہ بھی انکشاف کرتی ہے کہ خواتین ملبوسات و لوازمات، آرائش و زیبائش کے سامان اور بچے و ماں کی مصنوعات اور گھریلو چیزوں کی آن لائن خریداری میں بڑا اختیار رکھتی ہیں، جو اتفاقاً وی آئی پی شاپ کی خواتین-میشت حکمت عملی کی درستگی کو ثابت کرتا ہے جو اس نے ایک سال پہلے ترتیب دی تھیں۔ تب سے وی آئی پی شاپ نے ملبوسات و لوازمات سے لے کر آرائش و زیبائش اور ماں و بچے کی مصنوعات تک اپنے زمرہ جات کو پھیلاتا تھا، اور ساتھ ساتھ گھریلو مصنوعات کو بھی تاکہ خواتین کی معیشت کی بڑھتی ہوئی قوت سے فائدہ اٹھایا جائے۔

آزاد ملازمت پیشہ خواتین اور گھریلو بیویوں/ماؤں/بیٹیوں  کی حیثیت سے عورتوں کے جامع کردار اور خریداری کی طلب کو مکمل طور پر سمجھتے ہوئے وی آئی پی شاپ خواتین اور ان کے اہل خانہ کے لیے 12,000 برانڈز کی مصنوعات پیش کرتا ہے۔ اور اس سال ستمبر میں وی آئی پی شاپ نے اپنے “عالمی فروخت” کاروبار کا اجراء کیا ہے تاکہ خواتین کے لیے آن لائن خریداریک ے تجربے کو بہترین بنا سکے۔

وی آئی پی شاپ کے نائب صدر ٹونی فینگ نے سروے کے اجراء کے موقع پر پریس کانفرنس میں کہا کہ “وی آئی پی شاپ میں ہم خود کو بہترین انداز میں بہترین مصنوعات و خدمات کی فراہمی کے لیے کوشاں رکھتے ہیں، اور یہ تحقیق ان کوششوں کے نتیجے میں سامنےآئی ہے جو ہم خواتین کی بڑھتی ہوئی مارکیٹ کے لیے کررہے ہیں۔ یہ بہتر ادراک کی خاطر اپنے وسائل پر توجہ رکھنے اور بڑی جدت طرازی کی تخلیق اور اسے ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر جاری کرنے کے لیے آگے کی سمت سفر کو ظاہر کرتی ہے جن علاقوں کو ہم فتح کرنا چاہتے ہیں۔”

مکمل رپورٹ دیکھنے کے لیے ملاحظہ کیجیے http://www.economistinsights.com/marketing-consumer/analysis/rise-and-onlineیا http://going-global.economist.com/۔

 تصویر – http://photos.prnasia.com/prnh/20141216/0861409493

Leave a Reply