ٹیلوم ہیلتھ کی تلومر کی لمبائی کی بنیاد پر صحت کو ماپنے والے جدید اشاریے ٹیلو ٹیسٹ TMکے اجراء کے منصوبہ بندی

وسیع طبی تحقیق تھوک پر کیے گئے ٹیلوٹیسٹ ٹ م کی پیش بینی کی صلاحیت کی تائید کرتی ہے

مینلو پارک، کیلیفورنیا، 28 نومبر 2012ء/پی آرنیوزوائر/–

جزء آخر یعنی تلومر کی لمبائی ناپنے والے تشخیصی ٹیسٹ ٹیلوٹیسٹTM کے بنانے والے ٹیلوم ہیلتھ انکارپوریٹڈ (TH) نے آج 2013ء کی اولین سہ ماہی میں تھوک کے ذریعے ٹیلوٹیسٹ کے مجوزہ اجراء کا اعلان کیا ہے۔ متعلقہ تلومر تجربات، بشمول چھوٹے تلومر کی شرح، بعد میں سامنے آئیں گے۔

ٹیلوم ہیلتھ کا ٹیلوٹیسٹTM مارکیٹ میں دستیاب تھوک کے ذریعے تلومر کا پہلا تجربہ ہوگا۔ THI کروموسومز کے آخری حصوں پر واقع حفاظتی حصوں یعنی تلومر سے متعلقہ اعدادوشمار پیش بینی کی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں، جو صحت کی علامت، بیماری اور مرنے کے خطرے کو جانچنے اور مخصوص علاج اختیار کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
تھوک کے ذریعے کیے گئے ٹیسٹ میں تلومر کی لمبائی کا فائدہ حال ہی میں کیسر پرماننٹ، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو (UCSF) اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے تعاون سے ایک آزاد اور وسیع طبی تحقیق کے ذریعے پیش کیا گیا، اس میں ایک لاکھ مریضوں کی اوسط تلومر لمبائی ناپی گئی اور دیگر طبی شعبوں اور نتائج کے مقابلے میں اس کا تجزیہ کیا گیا ۔

(http://www.nlm.nih.gov/medlineplus/news/fullstory_131143.html)

کیسر-یوسی ایس ایف تحقیق میں زیر تجربہ افراد کی تلومر ٹیسٹنگ سے قبل ان کی صحت کی حالت کی تصدیق کے لیے دو سالہ طبی ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا تھا۔ یہ تحقیق ٹیلوٹیسٹ کی پیش بینی کی صلاحیت کو جانچنے کے لیے اعدادوشمار کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ تحقیق نے ظاہر کیا کہ چھوٹے تلومر کے حامل افراد تین سال کے عرصے میں موت کے خطرے سے دوچار ہوتے ہیں اور تمباکو نوشی، شراب نوشی، کم تعلیم اور برا ماحول چھوٹے تلومر کا سبب ہے، جبکہ بڑے تلومر کے حامل افراد میں اعتدال دیکھا گیا۔ طرز زندگی کے عناصر کی وجوہات کو جاننے کے بعد بھی موت کے خطرے کا ڈیٹا شماریاتی اعتبار سے اہم رہا ۔ خون کے خلیات میں تلومر کی لمبائی کے حوالے سے یہ اور دیگر مشاہدات پرانی تحقیق کے مطابق ہیں۔

ٹی ایچ آئی کے چیف سائنٹیفک آفیسر کیلون ہارلے، پی ایچ ڈی نے کہا کہ “ہم نے جانا کہ تھوک میں موجود خلیات کی تلومر لمبائی خون میں موجود خلیات سے باہمی مطابقت رکھتی ہے ، لیکن یہ دیکھنا اہم تھا کہ کلیدی طبی میل جول بھی محفوظ ہو۔”

تلومر ناپنے کے لیے یو سی ایس ایف ٹیم کی قیادت ڈاکٹر ایلزبتھ بلیک برن نے کی جو 2009ء میں فزیولوجی اور میڈیکل میں نوبل انعام جیت چکی ہیں۔ استعمال کردہ ٹیکنالوجی qPCR تھی جو تلومر لمبائی سمیت مالیکیولر تشخیصی تجربات میں وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی ایک انتہائی مستحکم ٹیکنالوجی ہے۔ٹی ایچ آئی نے qPCR کی بنیاد پر تلومر کی جانچ کے خصوصی عالمی حقوق 2010ء میں یونیورسٹی آف یوٹاہ سے حاصل کیے تھے۔
ٹیلوم ہیلتھ کے سی ای او لینارٹ اولسن، ایم ڈی بتاتے ہیں کہ “مستحکم طبی ڈیٹا اور تھوک کے ذریعے ٹیلوٹیسٹ کی دستیابی وہ بنیاد ہوگی جس پر ٹیلوم ہیلتھ کا صحت کا کاروبار قائم ہوگا۔ کیونکہ تھوک کے نمونے با آسانی ڈاکٹر کے دفتر یا گھر پر بغیر کسی چیر پھاڑ کے حاصل کیے جا سکتے ہیں، اس لیے ایسے تجربے تلومر ٹیسٹ کے دیگر دستیاب طریقوں سے مختلف ہیں، اور ہماری qPCR ٹیکنالوجی کے باعث بحیثیت مجموعی بہتر ہیں، یہ ٹیکنالوجی قابل اضافہ اور سستی ہے اور ہمارا ماننا ہے کہ ہائی-تھروپٹ پرکھ میں یہ ایک غالب ٹیکنالوجی ہوگی۔ ہم 2013ء کے اوائل میں اپنی طبی تجربہ گاہ سے اس کے کنٹرولڈ اجراء کے لیے تیزی سے متحرک ہیں۔”

ٹیلوم ہیرتھ کی نائب شریک اور سائنٹیفک اینڈ کلینکل ایڈوائزری بورڈ کی چیئر ایلزبتھ بلیک برن نے کہا کہ “جزء آخر یا تلومر جینوم کے چندحصوں میں سے ایک ہیں جو طرز زندگی کے انتخاب سے تبدیل ہو سکتے ہیں، اور اسی لیے تلومر کی کی لمبائی ناپنا کسی بھی فرد کو لاحق بیماری کے خطرات کے بارے میں اور ممکنہ طور پر طرز زندگی میں تبدیلی کے اثرات کے بارے میں بھی قابل قدر معلومات دے سکتا ہے۔کیسر-یوسی ایس ایف کی تحقیق میں تھوک پر کیے گئے تجربات سے حاصل کردہ ڈیٹا تلومر سائنس میں آگے کی جانب ایک دلچسپ قدم ہے، کیونکہ یہ روزمرہ کی طبی مشقوں میں تلومر کی ٹیسٹنگ کے استعمال کو آگے بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔”

ٹیلوم ہیلتھ کا ملکیتی ٹیلوٹیسٹTM ڈاکٹروں کو مریضوں کی صحت اور اس کو لاحق خطرات کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرے گا تاکہ وہ ان کے طبی فیصلوں کے حوالے سے بہتر معلومات کے حامل ہوں۔ طبی سہولت کے علاوہ تلومر کی لمبائی ناپنا لوگوں کو اپنی صحت کی مجموعی حالت کو سمجھنے اور طرز زندگی میں تبدیلیوں کا تعین کرنے اور ممکنہ طور پر ان تبدیلیوں کی موثریت کی جانب اشارہ کرے گا۔

تلومر کے بارے میں

10 ہزار سے زائد نظرثانی کی سائنسی اشاعتوں نے تلومر حیاتیات اور بڑھاپے یا بیماری کے بارے میں تلومر کی پیمائش کو صحت کی صورتحال، بیماریوں کے خطرے، مرض کی تشخیص اور دواؤں کے ردعمل کو جانچنے کے لیے تشخیصی خوبی کی حیثیت سے تسلیم کیا ہے۔ ان تحقیقوں میں سے چند نے چھوٹے تلومر یا تبدیل شدہ تلومر اور اہم بیماریوں جیسا کہ سرطان، امراض قلب، فائبروٹک، فساد انگیز اور متعدیامراض، ذہنی تناؤ اور ذیابیطس کے درمیان تعلقات یا اتفاقی رابطہ دریافت کیا ہے۔ کیونکہ بیشتر حیاتی نشان انداز (بایومارکرز) مخصوص بیماریوں سے تعلق رکھتے ہیں، تلومر کا چھوٹا پن کئی خرابی پیدا کرنے والے امراض کے بڑھتے ہوئے خطروں کی پیش بینی کرنے والا انوکھا اشاریہ ہے، یہ روایتی نشان اندازوں سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ حالیہ اعدادوشمار نے یہ بھی بتایا ہے کہ تلومر کی لمبائی ردعمل ظاہر کرنے والے، نہ ظاہر کرنے والے، یا مخصوص دوائیوں کے انتہائی مضر اثرات کے خطرے سے دوچار افراد کے بارے میں پیش بینی کرنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔

تحفظ، صحت کی بحالی اور انفرادی علاج کے لیے تلومر کی بنیاد پر تشخیصی پیمائش کی کئی ایپلی کیشنز صحت عامہ کے لیے ایک مثالی تبدیلی کی مدد کر سکتی ہیں۔

ٹیلوم ہیلتھ انکارپوریٹڈ کے بارے میں

ٹی ایچ آئی کے بانیوں میں سے دو نے تلومر ٹیکنالوجی کے شعبے کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیے: پروفیسر ایلزبتھ بلیک برن، پی ایچ ڈی (یو سی ایس ایف)، جنہوں نے 2009ء میں تلومر کی ساخت اور کارگزاری جاننے کے لیے مادۂ منویہ پر اپنی تحقیق اور تلومر کے ڈی این اے کو ترکیب دینے والے خامرے تلومریز کی دریافت کے باعث شعبہ فزیولوجی اور میڈیکل نوبل انعام حاصل کیا تھا ؛ اور کیلون ہارلے پی ایچ ڈی، جنہوں نے انسانی خلیے کی بڑھتی عمر اور امراض کے تلومریس اور تلومریز سے جوڑا، اور وی پی ریسرچ اور چیف سائنٹیفک آفیسر کی حیثیت سے گیرون کارپوریشن میں ادویات کی تیاری میں تلومر سائنس کو شامل کیا تھا۔

امریکہ میں 30 سے زائد عمر کے 180 ملین سے زیادہ افراد ہیں – اور بڑھتی ہوئی تعداد نے ان کی صحت کو بحال رکھنے کے سلسلے میں دلچسپی کو بڑھا دیا ہے۔ ٹی ایچ آئی کے بانیوں کا ماننا ہے کہ مجموعی صحت کے پیمانے کی حیثیت سے تلومر کی لمبائی ادویات کے شعبے میں انقلاب کا ایک اہم جز بنے گی، جس میں انفرادی صحت کی دیکھ بھال کے منصوبے صحت کو جانچنے کے نئے ٹولز کی بنیاد پر ہوں گے۔ تلومر حیاتیات کے شعبے کے اس ارتقائی مرحلے میں ٹی ایچ آئی تلومر حیاتیات کی بنیاد پر اضافی تشخیص بنائے اور کمرشلائز کرے گا۔ ادارہ اس وقت تعلیمی اداروں، ادویہ ساز اداروں اور کاروباری تحقیقی گروہوں کے لیے تلومر کی لمبائی کے تجربات فراہم کرتا ہے۔

www.telomehealth.com

یہ اعلامیہ مستقبل کے حوالے سے بیانات کا حامل ہو سکتا ہے جو پرائیوٹ سیکورٹیز لٹی گیشن ایکٹ 1995ء کے مطابق “سیف ہاربر” بیان شمار ہوتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو اس اعلامیہ میں ٹی ایچ آئی کی ٹیکنالوجی کے مستقبل کے حوالے سے بیانات کے ممکنہ اطلاق کے حوالے سے خبردار رہنا چاہیے جو خطرات اور غیر یقینی کیفیات کے حامل ہیں، جو ممکنہ مصنوعات کی تیاری اور کمرشلائزیشن، طبی تجربات کے نتائج کی غیر یقینی کیفیات اور انضباطی منظوری یا اجازت، مستقبل میں سرمائے کی ضرورت، مددگاروں پر انحصار اور ہمارے حقوق ملکیت دانش کی حفاظت کے حوالے سے ہیں، لیکن صرف انہی تک محدود نہیں۔ حقیقی نتائج یہاں مستقبل کے حوالے سے پیش کردہ بیانات سے مختلف ہو سکتے ہیں۔

مزید معلومات کے لیے رابطہ کیجیے: جینیٹ اسمتھ، +1-650-289-0289

Leave a Reply