پاکستان فری لانس جرنلسٹس گروپ (پی ایف جے جی) کا قیام

کراچی، یکم فروری: ملک بھر کے فری لانس صحافیوں کی جانب سے اپنے حقوق، تحفظ اور پیشہ ورانہ نشوونما کی ترویج کے لیے پاکستان فری لانس جرنلسٹس گروپ (پی ایف جے جی) بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ اس گروپ میں فری لانس صحافی، مدیران، اداریہ لکھنے والے، فوٹو جرنلسٹس اور کیمرا مین شامل ہوں گے جو اشاعتی، نشریاتی اور نیو میڈیا کا حصہ ہیں۔

گروپ کا سمجھنا ہے کہ فری لانس صحافی میڈیا کی صنعت کا سب سے زیادہ نظر انداز کیا گیا طبقہ ہیں۔ معاوضے، کام کے حالات اور سہولیات کے معاملے میں ان سے عام ملازمین جیسا سلوک نہیں کیا جاتا۔ فری لانس صحافی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے ضروری تربیت اور دیگر مواقع سے بھی محروم رہتے ہیں۔

کراچی، پاکستان: چیئرمین پاکستان پریس فاؤنڈیشن (پی پی ایف) اویس اسلم علی کراچی میں فری لانس صحافیوں کے ساتھ مقامی ہوٹل میں گروپ فوٹو.

شرکا نے کہا کہ گو کہ قتل اور زخمی ہونے والے زیادہ تر صحافی فری لانسر ہوتے ہیں، لیکن میڈیا ادارے انہیں حفاظتی تربیت، بیمہ، رہنما اور مشاورت فراہم نہیں کرتے۔ کئی مرتبہ تو کوئی واقعہ پیش آنے کی صورت میں مقامی اور غیر ملکی میڈیا ادارے اپنے مقامی نمائندوں کو چھوڑ جاتے ہیں۔ صحافیوں نے بھیانک داستانیں پیش کیں کہ جہاں انہیں ہولناک حالات کا سامنا کرنا پڑے لیکن جن اداروں کے لیے وہ کام کرتے تھے انہوں نے ان کی مدد نہیں کی۔

فری لانس کام کرنے والے خود کو جدا اور کم اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں کیونکہ کوئی ایسا ادارہ یا پلیٹ فارم نہیں جو ان کے مفادات اور بہبود کے لیے کام کرے۔ یہ وہ وجوہات تھیں جو پاکستان پریس فاؤنڈیشن (پی پی ایف) کی جانب سے اوپن سوسائٹی انسٹیٹیوشن (او ایس آئی) کے تعاون سے قومی مشاورتی مذاکرے میں گروپ کے قیام کے بارے میں پیش کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ایف جے جی فری لانس صحافیوں کے مسائل اور خدشات کو آواز دے گی اور ان کی پیشہ ورانہ ترقی کو سہارا فراہم کرے گی۔

گروپ نے قابل بھروسہ فری لانس میڈیا ماہرین کے کام کو ترویج دینے اور نمایاں کرنے کے لیے ڈائریکٹری تیار کرنے اور معاہدے کے حقوق، بیمہ، تربیت اور فیلوشپس پر مشاورت اور رہنمائی فراہم کرنے کے لیے ایک ویب سائٹ تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ گروپ نے فری لانس صحافیوں اور ان کی خدمات استعمال کرنے والے اداروں کے لیے بہترین طریقوں کی تیاری پر کام کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔