پاکستان میں خاتون صحافیوں نے میڈیا اداروں میں کام کے محفوظ ماحول کا مطالبہ کردیا

کراچی، 16 مئی: خواتین کے لیے اندیشے، خوف اور جنسی ہراسگی پاکستان کے میڈیا اداروں میں سرایت کر چکی ہے اور یہ پیشہ ورانہ اداروں میں خواتین کے داخلے کی راہ میں ایک سنجیدہ رکاوٹ ہے۔

اس بات پر اتفاق خواتین میڈیا ماہرین کے لیے حفاظت کے چیلنجز  اوپن سوسائٹی انسٹیٹیوٹ (او پی آئی) کی پاکستان پریس فاؤنڈیشن (پی پی ایف) کی جانب سے ہونے والے مشاورتی مذاکرے میں کیا گیا۔

اجلاس میں سمجھا گیا کہ پاکستان میں اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی وژن چینلوں نے اپنے ہاں کام کرنے والی خواتین میں حفاظت کا احساس پروان چڑھانے کے لیے کافی کوششیں نہیں کیں۔ اس کا اظہار اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ چند ہی ادارے ایسے ہیں جنہوں نے زنانہ عملے کے خلاف جنسی ہراسگی کی شکایات پر تحقیقات کے لیے داخلی کمیٹیاں تشکیل دیں۔ کام کی جگہ پر ہراسگی کے خلاف خواتین کے تحفظ کے قانون 2010ء کے تحت پاکستان کے تمام ادارے قانونی طور پر پابند ہیں کہ وہ تین رکنی داخلی کمیٹیاں تشکیل دیں۔

اجلاس میں محسوس کیا گیا کہ جنسی درندے خاص طور پر عملے کی کمزور اور ضرورت مند ترین خواتین کو نشانہ بناتے ہیں، اب یہ مالکان کے لیے ضروری ہے کہ وہ تمام خواتین ملازمین کے لیے کام کا محفوظ ماحول فراہم کریں۔

اجلاس میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے)، کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای)، آل پاکستان نیوزپیپر سوسائٹی (اے پی این ایس) اور پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) سمیت تمام میڈیا اداروں پر زور دیا گیا کہ وہ خواتین عملے میں تحفظ کا احساس بیدار کرنے اور اس پیشے کو اختیار کرنے میں ان کی حوصلہ افزائی کو بڑھانے کے لیے اپنے تمام اراکین کی جانب سے ایسی کمیٹیاں تشکیل دینےکو یقینی بنائیں اور اس سلسلے میں انہیں سہولت فراہم کریں۔ اجلاس نے میڈیا اداروں پر یہ بھی زور دیا کہ وہ کام کی جگہ پر جنسی ہراسگی کے خلاف ضابطہ اخلاق کے حوالے سے شعور اجاگر کریں جو کام کی جگہ پر جنسی ہراسگی کے قانون کا حصہ ہے۔

شرکا نے، جن میں تمام صوبوں سے میڈیا میں کام کرنے والی خواتین شامل تھیں، محسوس کیا کہ پاکستان کے میڈیا اداروں میں جنسی ہراسگی بہت زیادہ تھی۔ جنسی ہراسگی کے خلاف شکایت کرنے والی خواتین کو نئی مصیبت کھڑی کرنے والا سمجھا جاتا تھا اور وہ کام کی جگہ پر خود کو تنہا محسوس کرتی تھیں۔ پاکستان کے میڈیا اداروں میں خواتین ملازمین کو درپیش حفاظت کے چیلنجز جسمانی، ذہنی اور جذباتی اندیشوں ، خوف اور انتقام کے خدشات کا احاطہ کرتے ہیں۔ ان اقدامات میں نامناسب جنسی اظہار، چھونا یا ٹٹولنا، خواتین ملازمین کے قریب نامناسب انداز میں کھڑے ہونا، مستقل گھورنا یا ترچھی نگاہوں سے دیکھنا شامل ہیں۔ جنسی ہراسگی کی دیگر عام اقسام میں نامناسب تبصرے کرنا، فحش گفتگو یا لطائف، فحش ایس ایم ایس پیغامات اور فون کالز شامل ہیں۔

شرکا نے محسوس کیا کہ مرد ملازمین جنسی ہراسگی کی شکایت کرنے والی یا ان کے اخلاقی کردار پر سوال اٹھانے والی خواتین کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جنسی ہراسگی کی شکار خواتین کو اپنے باس یہاں تک کہ ساتھ کام کرنے والی خواتین ملازمین کی طرف سے بھی ڈھارس نہیں ملتی، جو دفتر میں تناؤ پیدا نہیں کرنا چاہتیں۔

میڈیا سے وابستہ خواتین کو ان طعنوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے کہ عورت ہونے کی وجہ سے انہیں اہم خبریں یا انٹرویوز ملنا آسان ہوتا ہے، یہ تاثر ان کی کامیابی کی حیثیت کم کرتا ہے اور ان کی کارکردگی تسلیم نہیں کی جاتی۔

خواتین کی جنسی ہراسگی ایک عالمی مسئلہ ہے اور انٹرنیشنل نیوز سیفٹی انسٹیٹیوٹ (آئی این ایس آئی) اور انٹرنیشنل ویمنز میڈیا فاؤنڈیشن (آئی ڈبلیو ایم ایف) کی جانب سے خبری میڈیا میں خواتین پر تشدد اور ہراسگی کے حوالے سے کیے گئے بین الاقوامی سروے کے مطابق میڈیا سے وابستہ دو تہائی خواتین کو مختلف اندیشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان میں سے بیشتر اندیشے کام کی جگہوں پر ہوتے ہیں۔

قبل ازیں صنفی حقوق کے ماہر اور سابق صحافی ڈاکٹر سلمان عارف نے جنسی ہراسگی اور طاقت کے ناجائز استعمال کے معاشرتی پہلوؤں کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے خواتین کو یکساں مواقع نہیں دیتے اور انہیں امتیازی سلوک کے خوف کے بغیر ذریعہ معاش اختیار کے بنیادی حق کی راہ میں کئی پابندیوں اور رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں سمیت تمام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی بنیادی ذمہ داری گو کہ ریاست پر عائد ہوتی ہے، لیکن وہ آئین پاکستان کے تحت کیے گئے وعدے پوری کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کی ساکھ بنانے میں میڈیا نے کلیدی کردار ادا کیا ہے اور پاکستانی میڈیا میں موجودخواتین بھی معاشرے کے بگڑتے ہوئے معاملات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیرت کے نام پر صرف دو فیصد قتل منظر عام پر آتے ہیں اور 98 فیصد رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف اجتماعی زیادتی جیسے سنگین جرائم بھی عوام میں جرم کے خلاف نفرت دلانے کے بجائے میڈیا میں مزے لے کر پیش کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شکار بننے والی خواتین کی عمر اور حسن پر غیر ضروری توجہ دے کر میڈيا نے یہ تاثر دیا ہے کہ اس بدترین سفاکیت کی وجہ کسی حد تک خود شکار خواتین بھی ہیں۔