پاکستان: چار سال گزر گئے صحافی عبد الحق بلوچ کے قاتل اب بھی آزاد

اے آر وائی نیوز کے نمائندے عبد الحق بلوچ کے قاتل خضدار، بلوچستان میں ان کے قتل کے چار سال بعد بھی آزاد ہیں۔

عبد الحق بلوچ جو خضدار پریس کلب کے جنرل سیکریٹری بھی تھے 29 ستمبر 2012ء کو خضدار میں نامعلوم افراد کی جانب سے قتل کردیے گئے تھے۔ انہیں گھر جاتے ہوئے متعدد گولیاں ماری گئیں جن سے وہ جائے وقوعہ پر ہی چل بسے۔ 34 سالہ عبد الحق سمیت پانچ صحافیوں کو نومبر 2011ء میں کوریج نہ دینے پر ایک کالعدم عسکریت پسند تنظیم کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ البتہ کسی گروپ نے اس قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

2 اکتوبر 2012ء کو سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے عبدالحق کے قاتلوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے کے لیے 2.5 ملین روپے کے انعام کا اعلان کیا تھا۔

اپریل 2015ء میں کوئٹہ میں حکومت بلوچستان کی وزارت داخلہ نے مارے گئے صحافیوں کے لیے بلوچستان ٹریبونل انکوائری آرڈیننس 1969ء کی شق (3) کی ذیلی شق (1) کے تحت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج خضدار کو ٹریبونل انکوائری مقرر کیا۔

البتہ ٹریبونل کے قیام کے اعلان کو ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود مارے گئے صحافی کے قاتل شناخت نہیں ہو سکے۔ عبد الحق کے بھائی عبد الرزاق نے کہا ہے کہ اہل خانہ کو انکوائری ٹریبونل کے انکشافات سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

صدر خضدار پریس کلب محمد صدیق مینگل نے کہا کہ انہیں ان حالات میں باہم متصادم فریقین کی جانب سے دھمکیوں کا سامناہے۔ شہزادہ ذوالفقار، صدر، کوئٹہ پریس کلب نے حکومت سے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور بلوچستان میں تمام مقتول صحافیوں کے اہل خانہ کو زر تلافی ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان پریس فاؤنڈیشن (پی پی ایف) کے ترتیب کردہ ڈیٹا کے مطابق عبد الحق ان 23 صحافیوں میں سے ایک ہیں جنہیں گزشتہ 15 سالوں کے دوران اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے بلوچستان میں قتل کیا گیا۔ ان صحافیوں کے کسی ایک قاتل کو بھی سزا نہیں ملی ہے۔