پاکستان کو آزادی اظہار رائے اور میڈیا سے وابستہ افراد کے تحفظ کی بیخ کنی کرنے والے پریشان کن نئی پالیسیوں اور طریقوں کا سامنا – پاکستان آزادی صحافت رپورٹ

3 مئی کو عالمی یوم آزادی صحافت پر پاکستان پریس فاؤنڈیشن (پی پی ایف) کی جاری کردہ پاکستان آزادی صحافت رپورٹ کے مطابق پاکستان ان پریشان کن رحجانات اور طریقوں کا مشاہدہ کررہا ہے جو ملک میں آزادی اظہار رائے اور میڈیا کے تحفظ پر سنجیدہ اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

رپورٹ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی طرف سے ادارتی ہدایت کے جارحانہ نظام؛ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی تقاریر اور انٹرویوز پر پابندی کے قانونی قدم؛ معروف ٹیلی وژن پروگرام میزبان حامد میر پر قاتلانہ حملہ کرنے والوں کی نشاندہی اور انہیں ذمہ دار ٹھیرانے کی سونپی گئی ذمہ داری کو پورا کرنے میں عدالتی کمیشن کی ناکامی اور آزادی اظہار کے حوالے سے ہونے والی تازہ پیشرفتوں اور ذرائع ابلاغ کے خلاف جرائم پر مجرموں کو حاصل کھلی چھوٹ کا احاطہ کرتی ہے۔ رپورٹ قومی اسمبلی کی جانب سے سائبر کرائم بل کی منظوری کہ جو آزادی اظہار پر قدغن لگانے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے؛ اور فیچر فلم “مالک” اور دو دستاویزی فلموں ‘Among the Believers’ اور ‘Besieged in Quetta’ پر پابندی پر بھی خدشات کا اظہار کرتی ہے۔

رپورٹ پاکستان میں آزادی اظہار رائے اور میڈیا کی حفاظت کے حوالے سے چند مثبت پیشرفتوں کی جانب بھی توجہ دلاتی ہے۔ ان میں تین سال بعد یوٹیوب پر ختم ہونے والی پابندی، “ایڈیٹرز فار سیفٹی (ای ایف ایس)” کا قیام، ضلع لاڑکانہ میں صحافی شان ڈاہر کے قتل کی ازسرنو تحقیق کا سندھ پولیس کا فیصلہ اور خیبر پختونخوا کے صحافی ایوب خٹک کے قاتل کو مجرم ٹھیرانا شامل ہیں۔

رپورٹ بتاتی ہے کہ ٹیلی وژن چینلوں کو مسخر کرنے کا عمل جو 2014ء میں جیو ٹیلی وژن کے ٹاک شو کے میزبان حامد میر پر قاتلانہ حملے کے بعد شروع ہوا اب بھی پوری طاقت سے جاری ہے، جس میں پیمرا ایسی ہدایات جاری کر رہا ہے جو پاکستان کے ٹیلی وژن خبری چینلوں کی ادارتی آزادی سے متصادم ہیں۔ پیمرا پاکستان کی جانب سے یمن میں زمینی افواج نہ بھیجنے، سانحہ منیٰ کہ جس میں کئی پاکستانی شہری مارے گئے؛ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کے جنازے کی کوریج اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے قائد الطاف حسین کی تقاریر و تصاویر نشر کرنے پر عائد پابندی جیسے معاملات کی کوریج پر ٹیلی وژن چینلوں کو ہدایات اور مشاورت دیتا رہا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ قومی اسمبلی میں چوتھی اور سندھ کی صوبائی اسمبلی میں دوسری سب سے بڑی جماعت ہے۔

رپورٹ نے حامد میر جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے لیک ہونے کو میڈیا کے خلاف جرائم کی کھلی چھوٹ کے آگے بند باندھنے کی کوششوں کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا، اور کہا کہ رپورٹ کمیشن کی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں مایوس کن ناکامی کو ظاہر کرتی ہے، جس میں حقائق جاننا، مجرموں کی نشاندہی کرنا اور حامد میر پر قاتلانہ حملے کے ذمہ داران کا تعین کرنا شامل تھا۔ پاکستان آزادی صحافت رپورٹ حکومت سے منسلکات و ذیلی نکات کے سمیت مکمل رپورٹ کے باضابطہ اجرا کا مطالبہ کرتی ہے جس میں حامد میر اور دیگر گواہان کے بیانات بھی شامل ہوں۔

پاکستان آزادی صحافت رپورٹ نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ قومی اسمبلی میں منظور ہونے والا پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز بل پاکستان کی سائبر دنیا میں آزادی اظہار رائے کو محدود کرنے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔

رپورٹ نے فیچر فلم مالک اور دستاویزی فلموں ‘Among the Believers’ اور ‘Besieged in Quetta’ پر پابندی کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ جو قانونی طور پر ممنوع نہیں اور تشدد پر نہیں اکساتا اس مواد پر پابندی کا کوئی جواز نہیں اور مزید کہا کہ حکومت کی ‘قابل قبول’ مواد کے حوالے سے سخت گیر پالیسی پاکستان کی ابھرتی ہوئی فلمی صنعت کی بحالی پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

رپورٹ 2016ء کے ابتدائی چار ماہ میں تین مختلف واقعات میں زخمی ہونے والے ذرائع ابلاغ کے بارہ نمائندوں کے واقعات کو بھی دستاویزی صورت دیتی ہے۔

پاکستان آزادی صحافت رپورٹ ملک میں آزادی اظہار رائے اور ذرائع ابلاغ کے تحفظ کے حوالے سے ہونے والی مثبت پیشرفتیں بھی ملاحظہ کیں۔ ان میں تین سال بعد یوٹیوب پر سے پابندی کا خاتمہ، “ایڈیٹرز فار سیفٹی (ای ایف ایس)” کا قیام، ضلع لاڑکانہ میں صحافی شان ڈاہر کے قتل کی ازسرنو تحقیق کا سندھ پولیس کا فیصلہ اور خیبر پختونخوا کے صحافی ایوب خٹک کے قاتل کو مجرم ٹھیرانا شامل ہیں۔

مکمل رپورٹ انگریزی میں  پر دستیاب ہے:  http://www.pakistanpressfoundation.org/wp-content/uploads/2016/05/Pakistan-Press-Freedom-Report-final.pdf

اردو میں یہاں  پر موجود ہے: http://www.pakistanpressfoundation.org/wp-content/uploads/2016/05/URDU-Report.pdf