کائنات میں اگلا قدم – ایک توانائی و زرعی انقلاب

مشرقی ایمہرسٹ، نیو یارک، 26 اکتوبر 2015ء/پی آرنیوزوائر– کائنات میں اگلا قدم توانائی اور زراعت کا ملاپ ہے، جہاں توانائی، صاف پانی، بھوک اور عالمی حدت کے عالمی چیلنجز ملتے ہیں۔ 2012ء سے کاروباری منتظم اور موجد ڈیرن پاسٹر توانائی اور زراعت کی صنعتوں میں ایک دور رس اور عالمی حل پر کام کررہے ہیں۔ جمعہ 23 اکتوبر 2015ء کو جناب پاسٹر نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے  اخراج پر قابو پانے، بجلی اور گیس-سے-مائع ایندھن بنانے کی ثانوی مصنوعات اور عمودی کاشت کاری میں اس کے اطلاق  کے لیے ایک عمل کے عارضی پیٹنٹ کی درخواست دی ہے۔ ان دو صنعتوں کو ملانے کے لیے جناب پاسٹر زیر-پیٹنٹ طریقہ استعمال کررہے ہیں جو اخراج سے پاک ایندھن کی بڑے پیمانے پر پیداوار اور زراعت کی پیداواری تنصیب تخلیق کرے گا۔

جناب پاسٹر دنیا بھر میں صارفین کے لیے اس زیر-پیٹنٹ ٹیکنالوجی کی اجازت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مزید برآں، وہ امریکا کے زوال پذیر صنعتی علاقوں میں کم از کم دس تنصیبات کی تعمیر کا مضبوط ارادہ رکھتے ہیں، جن میں بفیلو، نیاگرا فالز، کلیولینڈ، ڈیٹرائٹ، روچیسٹر، سائیراکیوس، البانی اور دنیا بھر کے دیگر ایسے ہی کم آسودہ حال علاقے شامل ہیں۔ ان میں سے ہر منصوبہ تقریبا 4,000 سے 4,500 تعمیراتی ملازمتیں اور 400 انتہائی ماہرانہ اور مستقل ملازمتیں تخلیق کرے گا۔ اگر بیک وقت تمام دس منصوبے کامیابی کے ساتھ مکمل ہوئے تو مجموعی طور پر کم از کم 40,000 تعمیراتی ملازمتیں اور 4,000 انتہائی ماہر افراد کی آسامیاں تخلیق ہوں گی ۔ شہری علاقوں میں تنصیبات کی تیاری کی صلاحیت کو دیکھیں تو روایتی ایندھن کے اخراج کی زندگی اور زرعی پیداوار کی نقل و حمل کو بڑے پیمانے پر کم کیا جا سکتا ہے۔

یہ مصنوعی ایندھن سلفر، بھاری دھاتوں یا بو سے پاک ہے، جو ماحول کے لیے نقصان دہ عناصر ہیں۔ جناب پاسٹر کی زیر-پیٹنٹ ایجاد گیس-سے-مائع مصنوعی ایندھن تنصیبات کے لیے ممکن بناتی ہے کہ وہ کم اخراج والے ایندھن بنائے، اور وہ بھی پیداواری عمل کے دوران فضا میں کوئی نقصان دہ گرین ہاؤس گیس خارج کیے بغیر۔

گیس-سے-مائع ایندھن تنصیبات پیداوار کے دوران بڑے پیمانے پر کاربن ڈائی آکسائیڈ تخلیق کرتی ہیں جو زہریلے مواد جیسا کہ سلفر اور دیگر بو سے پاک ہوتی ہے۔ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو پکڑنا اور گرین ہاؤس گیس کو عمودی کھیتوں میں لے جانے کے قابل بناتا ہے (جنہیں ضیائی تالیف کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی ضرورت ہوتی ہے)، نتیجہ  بڑے پیمانے پر زیادہ غذائیت سے لبریز پھل اور سبزیوں کی صورت میں نکلتا ہے۔ مزید، گیس-سے-مائع ایندھن پیداواری تنصیب کو چلانے کے لیے درکار بجلی سے تین گنا زیادہ بجلی خود پیدا کرتی ہے۔ گیس-سے-مائع تنصیبات اور عمودی کھیتوں کو ملایا جائے تو دونوں تنصیبات کی منافع بخشی کی صلاحیت زیادہ پرکشش بن سکتی ہے۔ کم آسودہ حال علاقوں میں جہاں تازہ پانی کا حصول مشکل ہوتا ہے، یہ عمل سمندری پانی سے نمکیات نکالنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور اسے عام استعمال کے ساتھ ساتھ عمودی کاشت کاری یا روایتی کاشت کاری کے لیے بھی قابل استعمال بناتا ہے۔

عمودی کاشت کاری ایسے فوائد پیش کرتی ہے جو روایتی کاشت کاری نہیں دیتی۔ مثال کے طور پر عمودی کاشت کاری کو کہیں کم زمین درکار ہوتی ہے اور یہ فصل کی پیداوار کا حجم اور مقدار کو بھی بڑھاتی ہے، اور غیر موزوں موسمیاتی صورتحال سے بھی فصلوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ زمین کی کم ضروریات کی وجہ سے عمودی کاشت کاری کو شہری علاقوں کے قریب ترین بھی منتقل یا قائم کیا جا سکتا ہے۔ شہری علاقوں کی کثافت بڑھنے سے عمودی کاشت کاری میں اضافہ، تعین کاری اور استعمال کھیتی باڑی کے موجودہ طریقوں کی ضروریات کو کہیں کم کرسکتے ہیں۔ ایک انقلابی تبدیلی اس وقت رونما ہوتی ہے جب عمودی کھیت شہری علاقوں میں تزویراتی مقام پر بنائے جاتے ہیں، جہاں اردگرد رہنے والی آبادی اس تنصیب میں پیدا ہونے والی سبزیاں، پھل اور مچھلی باآسانی استعمال کرسکتی ہے۔

مذکورہ بالا نئی تنصیبات معاشی لحاظ سے صنعتی خطوں میں دوبارہ جان ڈالنے میں مدد دیں گی، اور ساتھ ساتھ یہ خطہ دنیا کے توانائی، بھوک، عالمی حدت اور صاف پانی کے خدشات سے نمٹنے کے لیے بھی عالمی مثال بن  کر ابھرے گا۔ جناب پاسٹر مانتے ہیں کہ وہ اسے دنیا کو بہتر مقام تک لانے کے لیے ایک موقع سمجھتے ہیں۔