۔کوئٹہ پریس کلب بھی دھشتگردوں کے نشانے پر ہے، پی پی ایف ورکشاپ

۔کوئٹہ ستمبر 05: بلوچستان کے صحافیوں نے کہا ہے کہ وہ مشکل ترین صورتحال سے گذر رہے ہیں۔کوئٹہ پریس کلب بھی دہشتگردوں کے نشانے پر ہے۔وکلاء کے بعد صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔کسی بھی خطرناک صورتحال سے بچنے کیلئے  صحافی مقامی طور پرمنصوبہ بندی پر غور کر رہے ہیں۔کوئٹہ میں صحافیوں کوایک جگہ پراکٹھا نہیں ہونا چاہیئے۔اس سے خطرناک صورتحال سے بچا جاسکتا ہے۔

یہ بات انہوں نے پاکستان پریس فائونڈیشن کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب میں منعقد کئے جانے والی تین روزہ جرنلزم اسکلزورکشاپ کے دوران کی۔یہ ورکشاپ انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ اورسفارتخانہ ڈینمارک اسلام آباد کے تعاون سے منعقد کی گئی۔اس میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے شرکت کی۔

جوائنٹ میڈٰیا ایکشن کمیٹٰی بلوچستان کے چیئرمین شہزادہ ذوالفقارکا کہنا تھا کہ صحافیوں کو بلوچستان میں جلسہ جلوسوں میں آگے، اسٹیج کے قریب یا ایک ساتھ نہیں بیٹھنا چاہیئے۔ صحافیوں کی جانب سے تشکیل دیئے جانے والے ضابطہ پر سختی سے عمل کریں۔ وہ جماعتیں جودہشتگردوں کے نشانے پر ہیں اس کی رپورٹ کرتے ہوئے سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں ہونے والے پانچ بڑے دھماکوں میں ہر واقعہ میں صحافی اور میڈٰیا سے تعلق رکھنے والے شہید ہوئے ہیں۔ یہاں کے صحافیوں کو زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔

پریس کلب کوئٹہ کے جنرل سیکریٹری خلیل احمد نے کہا کہ مذہبی و فرقہ ورانہ جماعتوں کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب دھمکیاں موصول ہوئی ہیں اور خاص طور پردیگر مذاہب کے صحافیوں کو دھمکی آمیزخطوط موصول ہوئے ہیں۔ جس کے بعد کوئٹہ پریس کلب کی سیکورٹی سخت کردی گئی ہے۔ دیگر تمام راستے بند کرکے پریس کلب میں آنے جانے کیلئے ایک راستہ چھوڑا گیا ہے۔ غیرمیمبران کی پریس کلب میں داخلے پر پابندی لگادی گئی ہے۔

سینئر صحافی سلیم شاہد  نے کہا کہ صحافیوں کووقت بہ وقت میڈیا میں ہونے والی تبدیلیوں سے آگاہ ہونا چاہیئے۔ صحافیوں کے تحفظ کیلئے حکومت کو بندوبست کرنا چاہیئے لیکن صحافتی اداروں کو خود بھی اس حوالے سے لائحہ عمل طے کرنا چاہیئے، کوئٹہ کے صحافی اس حوالے سے جو ضابطہ بنایا ہے اس پرسختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

قاضی آصف تربیت کار، شہزادہ ذوالفقار نے معاون تربیت کار کے فرائض انجام دیئے جبکہ کوآرڈینیٹر کے فرائض نسیم شیخ نے ادا کیئے۔ آخر میں ورکشاپ کے شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئی۔