‫نانجنگ زرعی یونیورسٹی میں 2018ء جی سی ایچ ای آر اے ورلڈ ایگریکلچرل پرائز ایوارڈ کی تقریب کا انعقاد -ایوارڈ ایرک یرنکی ڈینکوا اور رتن لعل کے نام

نانجنگ، چین، 13 نومبر 2018ء/سنہوا-ایشیانیٹ/– 2018ء جی سی ایچ ای آر اے ورلڈ ایگریکلچرل پرائز (ڈبلیو اے پی) تقریب اور زرعی تعلیم و تحقیق پر “بیلٹ اینڈ روڈ” کوآپریشن فورم 28 اکتوبر کو نانجنگ زرعی یونیورسٹی (این اے یو) میں منعقد ہوئے۔ ایرک یرنکی ڈینکوا، یونیورسٹی آف گھانا کے پروفیسر اور رتن لعل، اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر، نے فصلوں کی افزائش اور مٹی کی نگہداشت کے حوالے سے شاندار کامیابیوں پر 2018ء ورلڈ ایگریکلچرل پرائز جیتا۔

100 سے زیادہ رہنما اور امریکا، کینیڈا اور جنوبی افریقہ وغیرہ سمیت 15 سے زیادہ ممالک کی زراعت کے حوالے سے جامعات این اے یو میں جمع ہوئیں۔ این اے یوں کے کُل ملا کر تقریباً 1,000 کلیات و طلبہ کے ساتھ، انہوں نے عالمی زرعی تحقیق اور حیاتیاتی علوم میں تعلیمی جدت طرازی پر گفتگو کے لیے ڈبلیو اے پی تقریب کا فائدہ اٹھایا۔

پروفیسر ڈینکوا طویل عرصے سے اعلیٰ معیار کی مقامی فصلوں کی اقسام کی افزائش اور ترویج سے وابستہ ہیں۔ گھانا میں پیش کردہ تین زیادہ فصل دینے والے مکئی کے مخلوط بیج مکئی کی پیداوار میں زبردست اضافہ کر چکے ہیں۔ 2007ء میں انہوں نے یونیورسٹی آف گھانا میں ویسٹ افریقہ سینٹر فار کراپ امپروومنٹ (ڈبلیو اے سی سی آئی) کے قیام کو فروغ دیا۔ پروفیسر ڈینکوا نے بیجوں کی سائنس میں ماسٹرز کی سند اور بایوٹیکنالوجی مرکز کے قیام کے لیے یونیورسٹی آف گھانا کو فروغ دیا، جو یونیورسٹی آف گھانا کو تمام نیم-صحراوی افریقہ میں زراعت اور حیاتیاتی سائنسز کے سب سے زیادہ وقف، مرتکز اور سہارا دینے والے اعلیٰ تعلیمی ادارہ بنا رہے ہیں۔

پروفیسر لعل طویل عرصے سے زرعی ماحولیاتی نظاموں اور مٹی کے وسائل کی ماحول دوست تنظیم سے وابستہ ہیں، اور مانتے ہیں کہ “مٹی، پودوں، جانوروں، انسانوں اور ماحولیاتی علاقوں کی صحت ایک لازمی مجموعہ ہے۔” 40 سال قبل انہوں نے جنگلات کی کٹائی کے ماحول، تیل اور فصلوں کی پیداوار پر اثرات کے حوالے سے دنیا کی پہلی تحقیق کی۔ 1987ء سے وہ فصلوں کی پیداوار اور معیار کو بہتر بنانے، کیمیائی مادّوں کے استعمال کو گھٹانے، موسمیاتی تبدیلی کو کم کرنے اور نامیاتی کاربن کے مجموعوں کے ارتکاز کی ذخیرہ کاری اور انتظام کے ذریعے مٹی کی صحت کو بحال کرنے کے لیے کام کر چکے ہیں۔

ڈبلیو اے پی گلوبل کنفیڈریشن آف ہائیر ایجوکیشن ایسوسی ایشنز فار ایگریکلچرل اینڈ لائف سائنسز (جی سی ایچ ای آر اے) کی جانب سے قائم کردہ ایک بین الاقوامی اعزاز ہے۔ انعام کا مقصد ان افراد کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جنہوں نے زرعی و حیاتیاتئ سائنسز میں تعلیم، تحقیق و جدّت طرازی میں نمایاں طور پر حصہ لیا۔ ان میں زراعت، جنگلات، قدرتی وسائل، خوراک، حیاتی مصنوعات، بایوماس توانائی، دیہی ترقی، قدرتی ماحول اور دیگر شعبے شامل ہیں۔

ڈبلیو اے پی کو پروفیسر ژائی ہوکو، صدر چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سروسز (سی اے اے ایس) اور پروفیسر ژو گوانگ ہونگ، صدر این اے یو نے 20 اکتوبر 2012ء کو این اے یو کی 110 ویں سالگرہ پر دونوں نے باضابطہ طور پر تجویز کیا تھا۔ اسے جی سی ایچ ای آر اے ایگزیکٹو کمیٹی یوروگوئے کی جنرل اسمبلی نے نے 29 اکتوبر 2012ء کو منظور کیا تھا۔ جی سی ایچ ای آر اے ڈبلیو اے پی سے مسلسل چھ مرتبہ نوازا گیا ہے، جو اندرون اور بیرون ملک وسیع اثر و رسوخ رکھتا ہے، متعلقہ شعبوں میں عالمی تبادلے اور تعاون میں حصہ ڈال رہا ہے اور دنیا بھر میں زراعت اور حیاتیاتی سائنسز میں بین الاقوامی سائنس دانوں کو متاثر کر چکا ہے۔

مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے: http://wapcn.njau.edu.cn/

ذریعہ: نانجنگ ایگریکلچرل یونیورسٹی (این اے یو)