115 واں کینٹن میلہ – بڑھتی ہوئی قوت خرید، ابھرتی ہوئی مارکیٹیں اب توجہ کا مرکز

گوانگ چو، چین، 25 اپریل 2014ء/پی آرنیوزوائر/ — 115 ویں کینٹن میلے کے پہلے مرحلے کا آغاز نیک شگون کے ساتھ ہوا، جس میں غیر ملکی خریداروں کی حاضری میں 10 فیصد اضافے دیکھنے میں آیا۔ گو کہ یورپ کے مہمانوں کی تعداد میں کمی ہوئی، لیکن افریقہ اور ایشیا سے آنے والوں میں واضح اضافہ ہوا ، جبکہ ایشیائی خریدار کل کے 50 فیصد پر مشتمل  رہے۔ کل 24,581 نمائش کنندگان موجود تھے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 64 زیادہ ہیں۔

میلہ افریقی خریداروں کے لیے تیزی سے اہمیت اختیار کرتا جا رہا  ہے: ایک مستحکم ہوتے سیاسی ماحول کی وجہ سے مہمانوں کی تعداد اور آرڈرز میں اضافہ ہوا۔ نمائش کنندگان نے کہا کہ 2013ء کے مقابلے میں پہلے دن کے آرڈرز میں واضح بڑھوتری ہوئی، بالخصوص تعمیراتی مواد اور برقی مصنوعات میں۔ جنوبی افریقہ کے ایک خریدار ایک فراہم کنندہ کے ساتھ ہارڈویئر مصنوعات کے لیے 2 ملین امریکی ڈالرز کے آرڈر کے مذاکرات پہلے ہی مکمل کرچکے ہیں۔

جی ایم ہیفی رونگشیڈا سانیو الیکٹرک کمپنی لمیٹڈ کی جی ایم یانگ جن نے کہا کہ “کینٹن میلہ خریداروں اور ساخت گروں کے لیے پرانے دوستوں سے ملنے کا مقام ہے۔” ان کے ادارے نے 300 ملین رینمنبی کے آرڈرز حاصل کیے۔

سوڈان کے محمد نے کہا کہ “یہ یہاں میرا پانچواں سال ہے۔ چینی مصنوعات کم قیمت اور بہترین معیار کی ہوتی ہیں اور سوڈان میں اچھی بکتی ہیں۔” نائجیریا کے کرس نے کہا کہ “ٹی وی لوازمات اور گھریلو مصنوعات کے لیے یہاں آنے کا یہ میرا دوسرا موقع ہے ۔”

افریقی نمائش کنندگان کی بڑی تعداد نے جانا کہ میلہ انہیں نئے کاروباری مواقع حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ دالیا سعد، باورچی خانوں کی مصنوعات بنانے والے مصری ادارے یونین ایئر کے وی پی برائے برآمدات نے کہا کہ “میلہ بین الاقوامی اور سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے۔ یہاں سے ہم پوری دنیا کے ساتھ معاہدے کرتے ہیں۔”

سائیکلنگ جرسیاں، ہیلمٹ اور دستانے درآمد کرنے والے پاکستان کے مظفر  نے کہا کہ “ناقص بنیادی ڈھانچے، بجلی کی قلت اور ایندھن کی بھاری قیمتوں کی وجہ سے پاکستان میں ساخت گری کمزور ہے۔ یہ دنیا بھر میں اپنی نوعیت  کا سب سے بڑا میلہ ہے۔”

کینٹن میلے کے ترجمان لیو جیان جن کے مطابق “افریقی خریدار تعداد میں بڑھ رہے ہیں اور ہر اہم مقام حاصل کر رہے ہیں۔ہم اس نشست میں تقریباً 200,000 غیر ملکی افراد کی شرکت کی توقع رکھی، جو 113 ویں میلے جتنی ہی ہے۔” جناب لیو نے مزید کہا کہ “بہار نشست افریقی خریداروں کے بہترین خریداری سیزن کے مطابق ہے۔”

میلے نے زیادہ خریداروں کی توجہ مبذول کرانے کے لیے نئے فوائد متعارف کروائے، جن میں نمایاں چائنا سدرن ایئرلائنز کی جانب سے آسٹریلوی خریداروں کے لیے فضائی کرائے کم کرنا، اور نئے خریداروں کو مدعو کرنے کے لیے نمائش کنندگان کی حوصلہ افزائی کرنا شامل ہیں۔ ابلاغی تبادلے کے لیے غیر ملکی ایوان ہائے صنعت کے ساتھ تعاون بھی بہت باثمر رہا۔

منتظمین کی نظریں 23 اپریل  اور 5 مئی کو ہونے والے دوسرے اور تیسرے مرحلے میں مزید کئی خریداروں اور نمائش کنندگان کا خیرمقدم کرنے پر مرکوز ہیں۔

مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے: http://www.cantonfair.org.cn/en/index.asp

 ذریعہ کینٹن میلہ

Leave a Reply