118 واں کینٹن میلہ: “یکساں فروخت اور کلیدی شعبوں میں خریداروں کی تعداد مستقبل کے عہد کو ظاہر کرتی ہوئی”

گوانگ چو، چین، 20 نومبر 2015ء/پی آرنیوزوائر– 4 نومبر کو مکمل ہونے والے چین کی معروف ترین تجارتی تقریب 118 ویں کینٹن میلے نے مجموعی طور پر خریداروں کی حاضری میں معمولی کمی ظاہر کی اور ساتھ ساتھ کلیدی شعبوں میں نمو میں بھی۔ میلے میں دنیا بھر کے 213 ممالک اور خطوں سے 177,544 غیر ملکی مہمانوں نے شرکت کی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں4.6 فیصد کمی ہے۔ البتہ کرنسی میں اتار چڑھاؤ پر بڑے پیمانے پر تشویش پر قابو پاتے ہوئے متعدد کلیدی مصنوعات کی فروخت واضح طور پر بڑھی، جبکہ کئی خریدار ممالک نے بھی خریداروں کی تعداد میں واضح اضافہ دکھایا۔

منتظمین کے مطابق میلے کے پہلے تین دنوں میں کئی اہم چینی صنعتی شعبوں میں توقع سے بڑھ کر فروخت ہوئی، جن میں گھریلو مصنوعات، کمپیوٹرز اور کمیونی کیشنزآلات سب نے معاہدوں پر دستخط کے لحاظ سے سال بہ سال میں بہتری ظاہر کی۔ دیگر ہائی-ٹیک شعبوں جیسا کا میکینیکل اور نئی توانائی مصنوعات نے بھی معاہدوں کےحجم میں اضافہ ظاہر کیا۔

چینی گھریلو مصنوعات کی صنعت، اسمارٹ مصنوعات اور آٹومیشن کی حالیہ جدت اور جدید ڈیزائن کے ساتھ، خریداروں کی توجہ مبذول کرانے میں سب سے آگے رہیں۔ پہلے سیشن میں گھریلو مصنوعات میں سال بہ سال میں تقریباً 10 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، جس میں ہائیر، میڈیا، ہائی سینس اور گیلنز جیسے اداروں میں سے سب نے 100 ملین امریکی ڈالرز سے زیادہ کی فروخت کی۔

یہ اعداد و شمار چینی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی بنیادی مسابقت کی درست تصویر کشتی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہائی سینس نے اپنے جدید اسمارٹ ٹیلی وژنز کے لیے 170 سے زیادہ پیٹنٹ حاصل کرلیے ہیں۔

ہائی سینس کینٹن میلے میں نمائش کرنے والے کئی چینی اداروں کی طرح ہے جن کی توجہ بہتر جدت طرازی، برانڈنگ، معیار، سروس اور ماحولیاتی آگہی کے ذریعے اب بین الاقوامی میدان میں نئی مسابقتی برتری حاصل کرنے پر ہے۔

کینٹل میلہ کا بین الاقوامی پویلین بھی ایک بڑی کامیابی ثابت ہوا، جس نے 3 نومبر تک 90,000 مہمانوں کی توجہ حاصل کی۔ 40 ممالک کی جانب سے 600 سے زیادہ اداروں کے ساتھ بین الاقوامی پویلین نے گزشتہ تقاریب کے مقابلے میں نمائش کنندگان کی تعداد اور تنوع کو کافی زیادہ پایا۔ حاضرین میں کئی معروف بین الاقوامی برانڈز شامل تھے، جبکہ معروف چینی اداروں جیسا کہ سوننگ اور وین گارڈ نے بھی اپنی مصنوعات پیش کیں۔

میلے میں چین کے “بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو” کے حوالے سے بھی حوصلہ افزا اشارے ملے۔ جنوبی ایشیائی بلاک، سعودی عرب اور ویت نام سے بھی خریداروں کی تعداد میں اضافہ ہوا، جبکہ تھائی لینڈ (تقریباً 400 فیصد)، سری لنکا (103 فیصد)، سربیا (97 فیصد)، ہنگری (44 فیصد) اور اردن (38 فیصد) سب نے اپنے خریداری کے حجم کو کافی بڑھایا۔

مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے: http://www.cantonfair.org.cn/en/index.asp