ٹائیفائیڈاور حد سے بڑھی ہوئی این ٹی ایس بیماری پر بالی، انڈونیشیا میں نویں بین الاقوامی کانفرنس

– عالمی صحت عامہ ماہرین کا ٹائیفائیڈ  و حد سے بڑھی ہوئی این ٹی ایس بیماری سے نمٹنے کے لیے مستقبل کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال

بالی، انڈونیشیا، 4 مئی 2015ء/پی آرنیوزوائر– کوالیشن اگینسٹ ٹائیفائیڈ (سی اے ٹی)نے بایو فارما کے تعاون سے بالی، انڈونیشیا میںٹائیفائیڈ اور حد سے بڑھتی ہوئی این ٹی ایس بیماری پر نویں بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی، جس میں دنیا بھر سے 200 صحت عامہ کے ماہرین حاضرین میں شامل تھے۔ چار روزہ کانفرنس (30 اپریل تا 3 مئی) کے دوران انہوں نے ٹائیفائیڈ اور حد سے تجاز کرتے نان-ٹائیفائیڈل سلمونیلا (آئی این ٹی ایس) مرض کے خلاف جنگ کے لیے حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ماہرین نے مرض کے بوجھ، مداخلت کی حکمت عملیوں کی قیمت موثریت اور انویسو سالمونیلوسس کے لیے عالمی پالیسی سفارشات پر اپنی تحقیق پیش کیں۔

ٹائیفائیڈ تقریباً 21 ملین افراد کو متاثر کرتا ہے اور سالانہ 216,000 اموات کا سبب ہے – جن میں سے زیادہ تر 15 سال سے کم عمر بچے ہیں۔ مزید برآں، حد سے تجاوز کرتا این ٹی ایس ہر سال دنیا بھر میں اندازاً 3.4 ملین افراد کی بیماری اور 681,316اموات کا سبب بنتا ہے۔

پاکستان کی آغا خان یونیورسٹی میں مرکز فضیلت برائے صحت خواتین و بچہ کے بانی ڈائریکٹر ذوالفقار بھٹہ، پی ایچ ڈی نے کہا کہ “دنیا کی آبادی کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ ٹائیفائیڈ سے متاثرہ ممالک میں رہتا ہے؛ البتہ اس مہلک مرض کی ذرائع ابلاغ پر کوریج – چھوٹے بچوں کو متاثر کی مناسبت سے – بدستور کم ترین ہے۔ یہ دو سالہ اجلاس عالمی ٹائیفائیڈ بوجھ کو کم کرنے میں درپیش چیلنجز کو نمایاں کرنے کا موقع دیتا اور ساتھ ساتھ انویسو سالمونیلوسس سے نمٹنے کے لیے قابل مقدور اور موثر مداخلت کی جانب واضح پیشرفت بھی فراہم کرتا ہے۔”

انویسو سالمونیلا خاندان کا اہم سیروٹائپ ٹائیفائیڈ اینٹی بایوٹکس کے ذریعے قابل علاج ہے۔ البتہ عام طور پر استعمال ہونے والی اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت ایک بڑھتا ہوا چیلنج ہے۔ تشخیص کے موثر ٹیسٹ کی کمی اس کے علاج کو پیچیدہ بناتی ہے۔ مل جل کر یہ چیلنجز مختصر عرصے میں ٹائیفائیڈ ویکسینز کے استعمال کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کی جانب سےٹائیفائیڈ ویکسینز “فوری” نفاذ کو ترجیح دینے کے باوجود اس کا استعمال ان متاثرہ ممالک میں بدستور کم ہی ہے۔

امریکہ میں قائم سابن ویکسین انسٹیٹیوٹ کے سی اے ٹی سیکریٹریٹ کے ڈائریکٹر عمران خان نے کہا کہ “ٹائیفائیڈ سے انسانوں کے متاثر ہونے کا فوری حل ویکسینز فراہم کرتی ہیں۔ ہم نے 2013ء میں ڈھاکہ، بنگلہ دیش میں ٹائیفائیڈ پر ہونے والی آخری بین الاقوامی کانفرنس کے بعد سے اہم پیشرفت کی ہے۔ دو مواصل ویکسینز کو بھارت میں لائنس دیا جاچکا ہے اور چھ مزید طبی مراحل میں ہیں اور 2018ء تک اپنے ممالک میں اجازت نامہ حاصل کرلیں گی۔ اس رفتار کو جاری رکھنے کے لیے کوالیشن اگینسٹ ٹائیفائیڈ اگلے اہم اقدامات پر شراکت داروں کے ساتھ کام کرے گا: ایک نظرثانی شدہ امیونائزیشن پالیسی اور ٹائیفائیڈ مواصل ویکسینز کے لیے مالی وابستگی کا تحفظ کرنا۔”

بھارت میں ٹائیفائیڈ مواصل ویکسینز کو قومی سطح پر حالیہ اجازت نامہ ملنا – اور نجی مارکیٹ میں ان کی دستیابی اور استعمال – ٹائیفائیڈ سے تحفظ میں ایک اہم سنگ میل کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان واقعات نے قومی امیونائزیشن پروگرام کے ذریعے سرکاری شعبے میں ان ویکسینز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے لیے بنیاد ہموار کی ہے۔ ایک مواصل ویکسین 90 فیصد ٹائیفائیڈ واقعات اور اموات کو روک سکتی ہے، جو ہر سال تقریباً 190,000 زندگیوں کو بچا سکتی ہے۔ یہ ویکسینز، جو ابتدائی ویکسینز کے مقابلے میں زیادہ طویل عرصے تک تحفظ دیتی ہیں، محفوظ ہیں اور چھ مہینے کی عمر کے شیرخواروں کے لیے بھی استعمال کی جاسکتی ہیں۔

نویں بین الاقوامی کانفرنس برائے ٹائیفائیڈ اور حد سے بڑھتی ہوئی این ٹی ایس بیماریانویسو سالمونیلا انفیکشنز کے عالمی بوجھ سے نمٹنے کے لیے ایک اہم کانفرنس ہے۔ کانفرنس میں سالمونیلا انفیکشنز کی تشخیص، انتظام اور تحفظ میں رکاوٹوں کو عبور کرنے کے لیے تحقیق اور صحت عامہ کے شعبے کی توجہ شامل  رہی۔

کوالیشن اگینسٹ ٹائیفائیڈ (سی اے ٹی) کے بارے میں
کوالیشناگینسٹٹائیفائیڈ(سی اے ٹی)بچوں کو میعادی بخار سے بچانے کے لیے ٹائیفائیڈ ویکسینز کے استعمال کے حوالے سے عالمی، علاقائی، قومی اور شہری سطح پر معقول و مشاہدے کی بنیاد پر کیے گئے فیصلوں کو تیز تر اور برقرار رکھنے کے لیے کام کرنے والے صحت و امیونائزیشن کے ماہرین کا عالمی فورم ہے۔ سی اے ٹی مقامی برادریوں کو ٹائیفائیڈ ویکسینز اختیار کرنے میں درپیش رکاوٹوں کو واضح کرنے کے لیے بھی کام کرتا ہے جوان کے خاتمے کے لیے ضروری بیشتر اور کلیدی سرگرمیوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔