ڈونڈاکٹر رونگ سیانگ سو، “خراب اعضاء کی بحالی” کے امریکی پیٹنٹ یافتہ ، کے سائنسی طریقے کا صدر اوباما کی جانب سے فروغ، “ممکنہ تجدیدی خلیہ” (پی آرسی) کی ایجاد

لاس اینجلس، 12 ستمبر 2013ء/پی آرنیوزوائر/ –

“انسانی جسم کی تجدیدی بحالی سائنس” کے بانی اور معروف حیاتی و طبی سائنسدان ڈاکٹر رونگ سیانگ سو نے اعلان کیا ہے کہ انہیں “ممکنہ تجدیدی خلیہ” (پی آر سی) کہلانے والی ایجاد کے لیے عوامی جمہوریہ چین کے ملکیت دانش کے ریاستی دفتر (ایس آئی پی او) کی جانب سے نیا پیٹنٹ (ترجیح: US10/004,103، 20 اکتوبر 2001ء؛ پیٹنٹ نمبر: ZL200610153824.8) دے دیا گیا ہے، جس کا مطلب کہ انسانی جسم میں پی آر سی کی موجودگی اور کارگزاری کی تصدیق اور فطری انسانی تجدید کی صلاحیت اور اس کے نقطہ آغاز کی مزید توثیق ہے۔ ڈاکٹر سو کو اپنے سائنسی طریقے اور “پلیوری پوٹنٹ اسٹیم خلیات اور خراب  اعضاء کی تجدید کی پیداوار” کی پلیٹ فارم پیٹنٹ درخواست کے لیے 2004ء سے امریکہ میں مختلف پیٹنٹ (بشمول US6991813) مل چکے ہیں، “جبکہ “خراب اعضاء کی بحالی” کے طریقے کو اوباما کے 2013ء صدارتی اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں حیااتی سائنس کی ترقی میں ترجیح کی حیثیت دی گئی تھی۔

Dr.%20Rongxiang%20Xu%2C%20the%20founder ڈونڈاکٹر رونگ سیانگ سو، خراب اعضاء کی بحالی کے امریکی پیٹنٹ یافتہ ، کے سائنسی طریقے کا صدر اوباما کی جانب سے فروغ، ممکنہ تجدیدی خلیہ (پی آرسی) کی ایجاد

Dr. Rongxiang Xu, the founder of “Human Body Regenerative Restoration Science,” a renowned life and medical scientist and the inventor and U.S. patentee of “A Somatic Cell Regenerating an Organ.”

(تصویر: http://photos.prnewswire.com/prnh/20130912/LA78368-a)
(تصویر: http://photos.prnewswire.com/prnh/20130912/LA78368-b)

انسانی جسم میں پی آر سیز وہ جوان خلیات ہیں جو پلیوری پوٹنٹ اسٹیم خلیات کی کارگزاری کی حالت میں تبدیل ہو سکتے ہیں؛ پی آر سیز مصنوعی تجربے سے یا جاندار عضو کے اندر نشوونما کے ذریعے پلیوری پوٹنٹ خلیات میں تبدیل ہو سکتے ہیں؛ پی آر سیز، اصلی صورت میں یا مصنوعی تجربے سے، پلیوری پوٹینٹاسٹیم خلیات کے عمل کو پیش کرنے کے لیے جگائے جا سکتے ہیں اور عملی بافتی-اعضاء کو ازسرنو تخلیق کر سکتے ہیں۔ “ممکنہ تجدیدی خلیہ” انسانی حیاتی سائنس کی ترقی میں ایک انقلابی ایجاد ہے۔

“پی آر سی” انسنی جسم میں پنہاں تجدیدی زندگی کا وجود ہے۔ اسے جگہ کر اور اس کے عمل کو نشوونما دے کر ہر انسانی عضو کو اپنی تجدیدی زندگی میں تخلیق کیا جا سکتا ہے، اس کی اپنی تجدیدی صلاحیت کو حفاظت،سلامت، بحالی اور تجدید کے لیے  استعمال کیا جا سکتا ہے، ایک ایسا عمل جو ڈاکٹر سو کی ایجاد سے قبل ممکن نہ تھا۔ “پی آر سی” انسانی جسم کے اندر نشوونما کے لیے تیار کرنا عملی طور پر 29 سالوں سے مرحلہ وار کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے 73 ملکوں میں جلنے اور زخم کے ہزاروں مریضوں کو بچایا جا رہا ہے۔ بیمار زدہ انسانی داخلی اعضاء کی تجدیدی بحالی اور کمزور پڑتے ہوئے اعضاء کو پھر سے جوان کرنا متعدد ممالک میں کیا گیا۔ ڈاکٹر سو نے کہا کہ “جون 2013ء میں میری جانب سے جاری کردہ ‘انسانوں میں اعضاء کی تجدید کی مکمل ٹیکنالوجیز کے اعلان’ کا مقصد عوام کو سائنسی ٹیکنالوجیوں کے بارے میں بتانا تھا جو خراب اور کمزور پڑتے ہوئے اعضاء کی تجدید و بحالی کے لیے دستیاب ہیں۔”

“ممکنہ تجدیدی خلیہ” اور “خراب اعضاء کی بحالی کے سائنسی طریقے” کی پیٹنٹ درخواستیں 2002ء میں امریکہ میں ترجیح کے ساتھ یکساں پیٹنٹ پلیٹ فارم فائل شدہ درخواست تعلق رکھتی ہیں۔ اپنی ملکیت دانش کے تحففظ کے لیے ڈاکٹر سو کی حکمت عملی کے مطابق بذریعہ پی آر سیز اعضاء کی تجدید کے سائنسی طریقے کی پیٹنٹ درخواست کی حقیقی جانچ پہلی بار 2002ء میں امریکی پیٹنٹ اور ٹریڈمارک دفتر (“یو ایس پی ٹی او”) میں کی گئی، ان کی پیٹنٹ درخواست برائے ممکنہ تجدیدی خلیہ حقیقی جانچ کے لیے 2002ء میں چین کے ایس آئی پی او میں داخل کی گئی تھی۔ 2005-2006ء کے قریب یو ایس پی ٹی او نے ڈاکٹر سو کو پی آر سیز کے لیے طریقے وضع کرنے اور “عضویاتی بافتوں اور اعضاء کی دوبارہ تحلیق کے لیے پی آر سیز کی اصلی صورت میں پلیوری پوٹینٹ اسٹیم خلیات میں منتقلی” کے متعدد پیٹنٹ دیے ۔ اس کے برعکس چین کے ایس آئی پی او نے پی آر سیز کی سخت جانچ کے لیے ایک مخصوص کمیٹی مرتب کی جس کی وجہ وہ اعلان کردہ وجہ تھی کہ حیاتی سائنس کی تاریخ میں “ممکنہ تجدیدی خلیہ” کی اصطلاح اور کارگزاری کے لیے کوئی حوالہ جاتی معلومات دستیاب نہیں تھی جس کا ڈاکٹر سو نے اطلاق کیا تھا۔ تصدیق سے انکار اور پھر ایک مرتبہ پھر تصدیق تک، ایس آئی پی او نے باریک بینی سے تجزیہ کیا اور ڈاکٹر رونگ سیانگ سو کے ساتھ 11 سال تک مباحثہ جاری رکھا، اور بالآخر 28 اگست 2013ء کو پیٹنٹ دے دیا، اور انسانی جسم میں پی آر سی کی موجودگی اور کارگزاری کی توثیق کردی جو انسانی جسم میں جسمانی خلیات کی ایک قسم کی دریافت اور ایجاد پر دلالت کرتا ہے جو پلیوری پوٹنٹ اسٹیم خلیات کی کارگزاری کو استعمال کرتا ہے۔ ڈاکٹر سو کے نشوونما کے عمل سے بنی نوع انسان اس قسم کے خلیات کو پلیوری پوٹنٹ اسٹیم خلیات کے عمل میں براہ راست جگا سکتے ہیں تاکہ وہ کسی عضو کو بحال کر سکیں جبکہ وہ خراب  ہو جائے یا بیماری کا شکار  ہوجائے اور یوں یہ انسانیت کے لیے انتہائی فائدہ مند چیز ہوگی۔

PRC%20of%20hair%20follicle%20regenerates%20the%20whole%20organ%20of%20a%20hair. ڈونڈاکٹر رونگ سیانگ سو، خراب اعضاء کی بحالی کے امریکی پیٹنٹ یافتہ ، کے سائنسی طریقے کا صدر اوباما کی جانب سے فروغ، ممکنہ تجدیدی خلیہ (پی آرسی) کی ایجاد

PRC of hair follicle regenerates the whole organ of a hair.

عوام کو پی آر سیز کے فوائد کا سائنسی حصہ سمجھانے کے لیے ڈاکٹر سو نے مندرجہ ذیل سوالات کی مزید وضاحت کی ہے:

سوال: “پی آر سی” اور انسانی اسٹیم خلیہ کے تصور میں کیا فرق ہے؟

جواب: جیسا کہ اسٹیم سیل پرائمر (این آئی ایچ، مئی 2000ء) میں بیان کیا گیا کہ اسٹیم خلیات وہ خلیات ہیں جو جنینی نشوونما اور انسانی جسم کی پیدائش کے بعد تکثیر اور تفریق کے عمل کوہمیشہ جاری رکھ سکتے ہیں۔ جو پورے انسانی جسم میں بڑھنے کے قابل ہوں وہ ٹوٹی پوٹینٹ اسٹیم خلیات ہوتے ہیں؛ جو صرف عضویاتی بافتوں اور اعضاء میں بڑھیں وہ پلیوری پوٹینٹ اسٹیم خلیات ہوتے ہیں؛ اور جو پیدائش کے بعد تکثیر اور تفریق کے عمل کو مستقل پیش کریں وہ بالغ اسٹیم خلیات ہیں۔

اس کے برعکس “پی آر سی” ایک جسمانی خلیہ ہے جو بالغ انسانی اعضاء کے بافتوں میں ہوتا ہے۔ عام بافتی خلیہ کی حیثیت سے “پی آر سی” تکثیر اور تفریق کے عمل کو نہیں رکھتا، البتہ ایک مرتبہ کوئی عضو یا بافتہ خراب ہو جائے (کارگزاری کی حالت کھو بیٹھے)، “پی آر سی” براہ راست اصلی صورت میں پلیوری پوٹینٹ اسٹیم خلیہ میں تبدیل ہوتا ہے اور درکار عضویاتی خلیافت، بافتے اور اعضاء درست حالت میں دوبارہ تخلیق کرتا ہے، جس کے بعد “پی آر سی” جسمانی خلیے کی حالت میں واپس چلاتا جاتا ہے اور بافتوں اور اعضاء میں پنہاں ہوجاتا ہے۔ “پی آر سی” ایک آزاد وجود ہے جو انسانی جسم میں پیدائشی طور پر ہوتا ہے، اور انسانی تجدیدی اسٹیم خلیے کی “ماں” ہے، ساتھ ساتھ فطرت کی جانب سے انسانوں کو بناتے ہوئے رہ جانے والے اعضاء اور بافتوں کی ازسرنو تخلیق کا فاضل تجدید خلیہ ہے۔

سوال: “پی آر سی” اور خراب اعضاء کی دوبارہ تخلیق کے سائنسی طریقے” میں کیا تعلق ہے؟

جواب: پیٹنٹ شدہ “خراب اعضاء کی دوبارہ تخلیق کا سائنسی راستہ” یہ ہے:انسانی اعضاء میں بافتوں کے خلیات اصلی صورت میں  تبدیل ہوتے ہیں اور پھر خراب ہونے والے عضو یا اس کے عمل کو بحال کرنے کے لیے نئے خلیات، بافتے اور بافتی-اعضاء بناتے ہیں۔ “پی آر سی تخلیق کا اصل منبع ہے، اور سائنسی رستے کا سنگ بنیاد۔ “پی آر سی” نہیں، “خراب عضو کی بحالی” کا کوئی سائنسی طریقہ بھی نہیں۔

سوال: “پی آر سی” اور جنینی اسٹیم خلیہ لائن پر تحقیق میں کیا فرق ہے؟

جواب: خلیہ لائن ایک مستقل مستحکم خلیہ کلچر ہے جو مناسب تازہ ذریعہ اور مقام فراہم کرنے کے لیے غیر معین طور پر پیدا ہوتا ہے۔ کئی خلیاتی حیاتیات دان تامل کریں گے کہ ایک خلیہ لائن سے مراد پہلے ہی سے خلاف معمول ہے اور یہ نیو پلاسٹ خلیہ کے برابر کلچر بننے جارہا ہے۔ جنینی اسٹیم خلیہ لائن پر تحقیق جنین کے بننے کے دوران جنینی اسٹیم خلیہ کو حاصل کرنا ہے تاکہ تحقیق کے لیے مصنوعی تجربہ کیا جا سکے۔ خلیاتی حیاتیات کی عقل سلیم میں جس کا اشارہ کیا ہے کہ جب ایک خلیہ خلیہ لائن بن جاتا ہے تو وہ اپنی اصلی خصوصیات کو کھو دیتا ہے۔ دوسری طرح “پی آر سی” انسانی جسم میں اپنے خلیہ کے صحیح صورت میں کارگزاری کا علم ہے، جو اس کی جسم میں عضویاتی تجدید کے عمل کی تحقیق سے تعلق رکھتی ہے۔ تحقیق کی ان دونوں اقسام کی فطرت مختلف ہے: جنینی اسٹیم خلیہ لائن آزمائشی خلیہ ماڈل کی تحقیق ہے؛ “پی آر سی” انسانی عضویاتی بافتوں اور اعضاء کی برمحل جسمانی خلیات میں اصلی صورت میں دوبارہ تخلیق کی عملی تعلیم ہے۔

ڈاکٹر رونگ سیانگ سو کے بارے میں

ڈاکٹر رونگ سیانگ سو “انسانی جسم کی تجدیلی بحالی کی سائنس” (ایچ بی آر آر ایس) کے بانی، معروف حیاتی سائنسدان اور طبی سائنسدان اور کیلیفورنیا اور بیجنگ میں قائم ملکیت دانش مینجمنٹ کمپنی اور ایچ بی آر آر ایس کے انتظام کے ذمہ دار ادارے میبو انٹرنیشنل کے چیئرمین ہیں۔ ڈاکٹر سو چائنیز میڈیکل ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے مقررہ رکن اور چائنیز برن ایسوسی ایشن آف دی انٹیگریشن آف ٹریڈیشنل اینڈ ویسٹرن میڈیسن کے اعزازی چیئرمین ہیں۔

پی آر سی اور ڈاکٹر  سو کے بارے میں مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے www.mebo-international.com

رابطہ:

جین ویسٹ گیٹ: +1-336-209-9276، Jane@westgatecom.com

چیرل ریلے: +1-703-683-1798، cherylrileypr@comcast.net

Leave a Reply