جانسن ایٹ کارنیل یونیورسٹی سنگ ہوا یونیورسٹی، پی بی سی اسکول آف فائنانس، بیجنگ، چین کے ساتھ دوہرے ڈگری پروگرام کا آغاز کرے گا

– ایم بی اے پروگرام انگلش و مینڈرین زبانوں میں اس وقت مارکیٹ میں پیش کردہ  واحد پروگرام ہوگا

– جانسن کلیہ کے سب سے بڑے وفد کی پروگرام اعلان کرنے کی تقریب اور چین میں مشغولیت کے پروگرام میں شرکت

بیجنگ، 4 جون 2014ء/پی آرنیوزوائر/ — سنگ ہوا یونیورسٹی اور اس کے پی بی سی اسکول آف فائنانس نے آج ایک نئی متحرک شراکت داری کے اعلان کے طور پر سیموئلکرٹسجانسن گریجویٹ اسکول آف مینجمنٹکارنیل یونیورسٹی کے کلیہ اور ایسوسی ایٹ ڈینز کے ایک وفد کا خیرمقدم کیا۔ نئے منصوبے میں چین بھر میں اس سے آگے کارپوریٹ اور انتظامی رہنماؤں کے لیے انگریزی اور مینڈرین دونوں زبانوں میں دوہری ڈگری ایم بی اے اور فنانس ایم بی اے کا اجراء بھی شامل ہے۔ 21 مہینہ طویل پروگرام کا اپریل 2015ء میں آغاز طے ہے، یہ 60 کریڈٹس پیش کرے گا اور اسے دنیا بھر میں مینڈرین اور انگریزی بولنے والے طلباء کے داخلے کے مقصد کے لیے دوزبانی حیثیت سے تیار کیا گیا ہے۔

Johnson%20School%20at%20Cornell جانسن ایٹ کارنیل یونیورسٹی سنگ ہوا یونیورسٹی، پی بی سی اسکول آف فائنانس، بیجنگ، چین کے ساتھ دوہرے ڈگری پروگرام کا آغاز کرے گا

Johnson School at Cornell University logo.

لوگو –http://photos.prnewswire.com/prnh/20080212/NYTU116LOGO

“دہرے-ڈگری پروگرام کا اجراء ہمارے متعلقہ اسکولوں کی تاریخ کا حقیقتاً ایک یادگار لمحہ ہیں۔ چین کے دنیا میں دوسری بڑی معیشت ہونے کے ساتھ، یہ ایک اہم موقع ہے کہ اس اہم شراکت داری اور بے مثال پروگرام کے لیے تعاون کیا جائے اور اسے تیار کیا جائے، امریکہ اور چین دونوں میں طلباء اور ایگزیکٹوز کے مفاد کی خاطر۔” جانسن ایٹکارنیل کی ڈین سمیترادتہ نے کہا۔

مندرجہ طلباء کی متوقع تعداد اندازاً 65 ہے جن کی اوسط عمر 30 سے 35 سال اور کام کا تجربہ اوسطاً پانچ سے آٹھ سال ہے۔ نصابی کام میں کیس مقابلوں پر مشتمل دو ہفتہ دورانیے کے دو مطالعاتی دورے، ایک وال اسٹریٹ سیر، اور اتھاکا، نیویارک میں کارنیل کیمپس اور نیویارک شہر میں کارنیل ٹیک کیمپس میں جانسن ایم بی اے اور ایگزیکٹو ایم بی اے طلباء کے ساتھ ملاقات شامل ہوگی تاکہ سیکھنے کا بہترین ماحول اور زبردست تعاون کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

“چین میں اتصادی ترقی کے اگلے مرحلے کے لیے جدت طرازی بہت اہم ہے،” یا-رو چین، اکیڈمک ڈائریکٹر چائناانیشیایٹوز، نکولایچنوئس پروفیسر مینجمنٹ اینڈ گلوبلسائنسز نے کہا۔ “نمو کے دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے چین کو ناگزیر طور پر اپنی توجہ کو بہتر بنانا ہوگا اور رسدی زنجیر میں آگے جانا ہوگا، اس مقصد کے لیے جدت طرازی کلید ہے۔”

“ہمارا منصوبہ دونوں اسکولوں کی شاندار روایات کو آگے لے جانا ہے، دست بہ دست، تاکہ نئے مواقع تخلیق کیے جائیں اور اپنے طلباء کو 21 ویں صدی کی کاروباری دنیا میں چیلنجز کے لیے تیار کیا جائے۔” پی بی سی ایسایف کے ایگزیکٹو ایسوسیایشن ڈین لیاؤ لی نے کہا۔ “ہمیں اس انتہائی متاثر کن شراکت داری کا حصہ بننے اور مباہمی ترقی کے شاندار امکانات کو دیکھتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے۔”

Leave a Reply